جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

جسم کے ان حصوں کو چھونے سے گریز کریں

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)دن بھر مختلف سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے ہمارے ہاتھ جراثیموں اور دھول مٹی کے ذرات سے اٹ جاتے ہیں جس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہوپاتا۔ اگر ان ہاتھوں سے ہم اپنے جسم کے کچھ حصوں خصوصاً چہرے کو چھوئیں تو یہ ہماری جلد کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔اسی لیے آج ہم آپ کو جسم

کے ان حساس حصوں کے بارے میں بتا رہے ہیں جنہیں بغیر ہاتھ دھوئے چھونا سخت نقصان دہ ہوسکتا ہے۔اگر آنکھ میں کچھ چلا جائے تو فوری طور پر آنکھ کو مسلنے سے گریز کریں۔ آنکھ میں گیا کچرا اور آپ کے ہاتھوں پر لگے دھول مٹی کے ذرات آنکھ کی تکلیف میں کئی گنا اضافہ کر سکتے ہیں۔آنکھ کی صفائی کے لیے اسے اچھی طرح دھوئیں اور اگر ہاتھوں سے صفائی کرنا مقصود ہو تو ہاتھوں کو بھی پہلے اچھی طرح صابن سے دھوئیں۔کان کے اندرونی پردے بے حد حساس ہوتے ہیں چنانچہ انہیں اندر گہرائی تک چھونے یا کھجانے سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ یہ عمل آپ کی لاعلمی میں آپ کو سماعت سے محروم کر سکتا ہے۔اسی طرح ناک کو چھونا بھی خطرے سے خالی نہیں۔ ناک کے اندر موجود جراثیم ناک کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں جو اسے باہر کے گرد و غبار سے محفوظ رکھتے ہیں۔ہاتھوں سے ناک صاف کرنا مضر صحت جراثیم کو جسم میں داخلے کی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ہاتھوں سے ہونٹ چھونا بھی ہونٹوں اور منہ کے اندر موجود فائدہ مند جراثیم کو نقصان پہنچانا اور نئے جراثیم اندر داخل کرنا ہے۔ یہ عمل نہ صرف آپ کے ہونٹوں، بلکہ دانتوں اور گلے کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ دراصل اپنے ہاتھوں سے پورے چہرے کو ہی چھونے سے گریز کیا جائے۔ آپ کے ہاتھوں پر موجود چکنائی، گرد وغبار اور جراثیم آپ کی جلد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور آپ کے چہرے پر کیل مہاسے پید کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ہاتھ اور پاؤں

کو اگر اچھی طرح سے دھو لیا جائے تب بھی ناخنوں کے اندر میل، گرد و غبار اور جراثیم موجود ہوتے ہیں لہٰذا بلاو جہ ناخن کو چھونے سے بھی پرہیز کرنا چاہیئے۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…