بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

جن بچوں کوسکول میں ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ نیند کے دوران کس بڑے مسئلے کا شکار ہوسکتے ہیں ،جانئے

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور(یوا ین پی)اسکول میں طنز و تحقیر اور ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنے والے بچے نیند میں دانت پیستے ہیں، اس بات کا انکشاف ایک نئی تحقیق میں کیا گیا ہے۔ت اورل ہیلتھ چئیرٹی یو کے کی ایک حالیہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ نیند میں دانت پیسنا و اسکول میں ڈانٹ ڈپٹ کئے جانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جن بچوں کو اسکول یا گھر سے باہر طنز وتحقیر یا ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ رات کو سوتے وقت دانت

پیستے ہیں۔اورل چئیرٹی ہیلتھ کے مطابق والدین اس چیز کا مشاہدہ کر کے اساتذہ وغیرہ سے اس حوالے سے ڈسکس کر سکتے ہیں تا کہ بچوں کو ٹیچرز یا ساتھیوں کی جانب سے طنز اور ڈانٹ ڈپٹ سے بچایا جا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی ڈانٹ ڈپٹ اور طنز و تحقیر کو معمولی سمجھنا بچوں کی آنے والی زندگی کیلئے سخت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس طرح بچوں میں اعتماد کی کمی واقع ہوتی ہے۔ایک سابقہ ریسرچ کے مطابق اسکول یا گھر سے باہر تحقیر اور ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنے والے بچے آنے والی زندگی میں ڈپریشن کا شکار بنتے ہیں، ان میں خود اعتمادی کی کمی واقع ہوتی ہے اور بعض اوقات یہ بات بچوں کو خودکشی پر بھی امادہ کر دیتی ہے۔ بچوں کی ڈانٹ ڈپٹ اور طنز و تحقیر کو معمولی سمجھنا بچوں کی آنے والی زندگی کیلئے سخت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس طرح بچوں میں اعتماد کی کمی واقع ہوتی ہے۔ایک سابقہ ریسرچ کے مطابق اسکول یا گھر سے باہر تحقیر اور ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنے والے بچے ا?نے والی زندگی میں ڈپریشن کا شکار بنتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…