اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

آنکھ پھڑکنے سے مصیبت آتی ہے ، یا آنکھ پھڑکنا بذات خود مصیبت ہے ؟جانئے تحقیق‎

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عام خیال کے مطابق ہمارے ہاں مشرق میں اگر اچانک کسی کی آنکھ پھڑکنے لگے تو اسے کسی نئی مصیبت کا پیش خیمہ تصور کیا جاتا ہے ۔لیکن کیا حقیقت میں آنکھ پھڑکنے سے کسی نئی مصیبت کا نزول ہوتا ہے ؟ اس سوال کا جواب ماہرین صحت کے علا وہ شاید کوئی عام آدمی نہ دے سکے ۔ماہرین صحت کی رائے کے مطابق آنکھ پھڑکنا ایک بے ضرر عمل ہے ۔ اس سے ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ یہ کوئی روحانی عمل نہیں بلکہ اسے

ایک عام عمل کہا جا سکتا ہے جو ایک مخصوص مدت تک جاری رہنے کے بعد خود بخود ختم ہو جاتا ہے ۔ماہرین کی جانب سے آنکھ پھڑنے کی وجوہات اور اس سے نجات حاصل کرنے کیلئے چند تجاویز شیئر کی گئی ہیں ۔عام طور پر آنکھ پھڑکنا اس عمل کو کہتے ہیں جس میں آنکھ کا اوپری پپوٹا بار بار حرکت کرتا ہے ۔آنکھ پھڑکنا کو ئی بہت بڑی بیماری نہیں ہے عام طور پر ضرورت سے ذیادہ تھکان ،جینیاتی خرابی ،آنکھوں میں دائمی خراش یا نظر کے مسائل کی وغیرہ کی وجہ سے پھڑکتی ہے ۔آنکھ پھڑکنے سے صرف آنکھ کے پپوٹے ہی غیر ارادی طور پر حرت کرتے ہیں اس کے علاوہ آنکھ کا کوئی حصہ متاثر نہیں ہوتا ۔ علاوہ ازیں اس عمل کے دوران کسی قسم کی درد یا تکلیف بھی نہیں ہوتی ۔آنکھ یوں تو ایک خاص مدت کے بعد خود بخود پھڑکنا بند ہو جاتی ہے تاہم اس کے باوجود ماہرین امراض چشم کی رائے کے مطابق اس عمل سے نجات پانے کیلئے مندرجہ ذیل تجاویز پرعمل کیا جا سکتا ہے ۔اگر اچانک کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے آپکی آنکھ پھڑکنے لگے تو فوراً کمپیوٹر پر سے نظریں ہٹا کر کچھ دیر کیلئے آنکھیں موند کر آرام کریں ۔آنکھ کے پپوٹے کو درمیانی انگلی کی مدد سے گولائی میں آہستہ آہستہ سہلائیں ۔مناسب نیند لیں اور کیفین کا استعمال کم سے کم کریں ۔ اگر شراب نوشی کے عادی ہیں تو اس کی مقدار کم سے کم کر دیں ۔ ذیادہ سے ذیادہ پانی پیئیں ۔ تاہم اگر آنکھ پھڑکنے کا عمل ایک ہفتے تک جاری رہے ، آنکھ میں سرخی ، سوزش یا پانی بہنے لگے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…