منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

سرسوں ، توریا، رایا، کینولا، تل ، مونگ پھلی، السی ، تارا میرا،سورج مکھی ، سویا بین ، کپاس اور مکئی ،کون سا کھانے کا تیل صحت کیلئے بہترین ہے؟ماہرین نے بتادیا

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور (آئی این پی ) زرعی ماہرین نے کہاہے کہ پاکستان اپنی ضرورت کا صرف 14فیصد (462ہزار ٹن) خوردنی تیل پیدا کرتا ہے ،86فیصد (3264ہزار ٹن) تیل درآمد کیا جاتا ہے ۔ جس کا خرچہ 285بلین روپے ہیں ۔ پاکستان ، چین اور بھارت کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا خوردتی تیل درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے اور جن ممالک سے تیل درآمد کیا جاتا ہے

ان میں ملائیشیااور انڈونیشیا سر فہرست ہیں۔ درآمد کردہ خوردنی تیل کھانے کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور بنیادی طور پر صابن اور کاسمیٹکس بنانے کے کام آتا ہے ۔ یہ عام درجہ حرارت پر سالڈ رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر جسم میں جا کر خون کی نالیوں میں جم جاتا ہے اور بہت سی خطرناک بیماریوں کا باعث بنتا ہے ۔ جس میں دل کی بیماریاں سر فہرست ہیں۔ ماہر ین نے مزید کہا کہ تیل دار اجناس کی مختلف انواع کی فصلات کی ایک طویل فہرست ہے جن سے تیل حاصل کیاجاسکتا ہے ۔ اس میں سرسوں ، توریا، رایا، کینولا، تل ، مونگ پھلی، السی ، تارا میرا،سورج مکھی ، سویا بین ، کپاس اور مکئی وغیرہ شامل ہیں۔ کینولا اور سورج مکھی کا تیل صحت کے لیے موزوں ترین ہے ۔ اس میں اروسک ایسڈ اور گلوکوسائینولیٹ کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے

۔پاکستان میں اس وقت کینولا کی کاشت کا بالکل صحیح وقت ہے ۔ ماہرین نے اس ضرورت پر زور دیا ہے کہ ہم کاشتکاروں میں آگاہی پیدا کریں کہ کینولا کی کاشت کو بڑھایا جائے ۔ تاکہ ملکی سرمائے میں اضافہ ہو اور درآمدات میں کمی ہو۔ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ حکومت پنجاب نے انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے خادم پنجاب کسان پیکج کے تحت تیلد ار اجناس کی کاشت پر سبسڈی سکیم متعارف کرائی ہے جوکہ ملکی کفالت کی طرف پہلا قدم ہے ۔ ایک کسان دس ایکڑ تک کاشت کے لیے سبسڈی سکیم سے فائدہ اٹھا سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…