منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

یہ مرغی حلال ہے یا حرام؟ مرغی خریدنے سے قبل یہ تحریر ضرور پڑھ لیں

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آج کل عموماََ میڈیا میں ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس سے مردہ مرغیوں کے گوشت برآمد ہونے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ عام شہری مختلف ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے علاوہ چکن شاپس پر بھی دھوکہ کھا جاتے ہیں اور ایسی کئی دکانیں بھی سامنے آئی ہیں

جو عرصہ دراز سے مردہ مرغیوں کا گوشت فروخت کر رہی تھیں۔ حرام مرغی کے گوشت کی کیا پہچان ہے ، یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر کوئی شخص آج کے دور میں جاننا چاہے گا۔ قارئین کی دلچسپی اور سہولت کیلئے ہم یہاں مردہ اور حرام مرغی کے گوشت کی پہچان بتانے جا رہے ہیں۔ حرام مرغی کا گوشت قدرے نیلا ہوتا ہے جبکہ حلال کی گئی مرغی کا گوشت گلابی یا ہلکا پیلا ہو گا جس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی طریقے سے حلال کی گئی مرغی کا سارا خون باہر نکل جاتا ہے اور صرف گوشت کا رنگ ہی رہ جاتا ہے۔ حرام مرغی یا غلط طریقے سے کٹنے والی مرغی کا خون جسم سے باہر نہیں نکل پاتا اور اندر ہی رہ جانے کی صورت میں جم جاتا ہے اور وہ خون جمنے کی صورت میں قدرتی طور پر نیلا پڑ جاتا ہے۔حرام مرغیوں کیلئے بیوپاری حضرات”ٹھنڈی مرغی یا اکھ میٹی”کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔اسی طرح پریشر والے گوشت کا رنگ ہلکا گلابی ہوگا، اگر پریشر نہ لگا ہو گا تو مرغی کے گوشت کا رنگ شوخ گلابی ہو گا-

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…