منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

ماہرین نے جوڑوں کیلئے ایک عام استعمال کی چیز کو نقصان دہ قرار دے دیا

datetime 30  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کافی ایک ایسا مشروب ہے جسے دنیا بھر میں گرم یا ٹھنڈے دونوں طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ بیشتر افراد اس مشروب کو بڑے شوق سے پیتے ہیں۔عام طور پر سردیوں میں اس کے استعمال میں بڑی حد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔ تاہم محققین کی رائے کے مطابق جو جوڑے مستقبل قریب میں بچہ پیدا کرنے کے خواہشمند ہوں انھیں کافی سے جس قدر ممکن ہو سکے دور رہنا چاہیے۔

امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے محققین کا کہنا ہے کہ ”جو میاں بیوی بچہ پیدا کرنے کی خواہش رکھتے ہوں انہیں کافی سے گریز کرنا چاہیے۔ خصوصاً مباشرت سے قبل اور حمل کے ایام میں کافی پینا نقصان دہ ہے۔“ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”اس میں میاں بیوی کی کوئی تخصیص نہیں، دونوں میں سے کسی ایک کا بھی کافی پینا آئندہ ہونے والے حمل کے لیے یکساں خطرناک ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں جو خواتین حاملہ ہونے کے پہلے 7ہفتوں میں روزانہ 2کپ کافی پیتی ہیں ان میں اسقاط حمل کے امکانات بھی بڑی حد تک ذیادہ ہوتے ہیں۔ محققین کی رائے کے مطابق کیفین والے دیگر مشروبات جیسے چائے وغیرہ بھی کافی کے برابر ہی خطرناک اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔“ محققین کی جانب سے بچے کی خواہش رکھنے والے افراد کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ انہیں حمل کے مرحلے کی طرف جانے سے قبل اپنی کیفین لینے کی عادت ترک یا کم کردینی چاہیے۔رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے اپنی اس تحقیق کے لیے اسقاط حمل کا شکار ہونے والے جوڑوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ اس میں امریکی ریاستوں مشی گن اور ٹیکساس کے 501جوڑوں کا2005ءسے 2009 تک لیا گیا ڈیٹا شامل تھا۔ سائنسدانوں نے ان جوڑوں کے لائف سٹائل، سگریٹ، کیفین والے مشروبات کی عادت اور ملٹی وٹامن کے استعمال سمیت دیگر عادات کا تجزیہ کیا۔

نتائج میں انکشاف ہوا کہ جن جوڑوں کے جسموں میں کیفین کی نمایاں مقدار موجود تھی ان میں اسقاط حمل کا شکار ہونے کی شرح دیگر جوڑوں کے مقابلے میں 28فیصد زیادہ تھی۔تاہم جو خواتین حاملہ ہونے کے بعد بھی کیفین والے مشروبات استعمال کرتی رہیں ان میں یہ شرح انتہائی خطرناک حد79فیصد تک پہنچ چکی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…