منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

قبل از موت کی بڑی وجہ کا پتہ چل گیا!وجہ جان کر آپ کے پاؤں تلے سے زمین نکل جائیگی

datetime 30  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) قلبی شریانوں کا مرض لاحق ہونے کے بعد اگر آپ مسلسل ڈپریشن میں رہتے ہیں تو 10 سال کے اندر موت کے قریب بھی پہنچ سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق دل کے مریض اگر ڈپریشن کے شکار ہوجائیں اور ہر بات دل پر لینے لگیں تو وہ دل ہار کر موت کے منہ میں جاسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ

قلبی شریانوں کے مریضوں میں مایوسی، ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کا مسلسل جائزہ لیا جانا ضروری ہے، خواہ ڈپریشن تھوڑے عرصے کے لیے ہو یا پھر کئی سالوں پر محیط، دل کے مریضوں کو اس سے دور رہنا چاہیے، کسی ڈپریشن کی صورت میں اس کا علاج اور فالو اپ بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔اس سے قبل بھی ماہرین ڈپریشن اور دل کے امراض کے درمیان تعلق پر ایک عرصے سے غور کررہے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ دل کے مریض چند ماہ کے اندر ہی ڈپریشن کے چنگل میں چلے جاتے ہیں۔ ماہرین نے اس کے لیے 10 برس تک 25 ہزار دل کے مریضوں کا بغور جائزہ لیا۔ ان میں سے 3646 مریض ڈپریشن میں مبتلا پائے گئے جبکہ ان کی نصف تعداد مطالعے کے دوران ہی انتقال کرگئی لیکن 20 ہزار سے زائد افراد ڈپریشن سے دور رہے اور زندہ رہے۔ اس طرح ماہرین کا خیال ہے کہ قلبی شریانوں کے مریضوں میں ڈپریشن جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ دل کے مریضوں کو خوش رہنا چاہیے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…