منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

آپ بھی ہوشیار ہوجائیں!وہ بیماری جس کی وجہ سے لاہور میںصرف 4ماہ میں28افراد نے خودکشی کرلی،افسوسناک انکشافات

datetime 28  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیس ک)لاہورکے مختلف علاقوں میں 2017کے ابتدائی چارماہ کے دوران 28افراد نے خودکشی کی ہے ان میں مرداورخواتین دونوں شامل ہیں ۔ ریکارڈ کے مطابق 15 خواتین اور 13 مردوں نے گزشتہ 4 ماہ کے دوران خودکشی کی ۔اس بارے میں ماہرین نفسیات نے کہاہے کہ خودکشی کرنے کی بڑی وجوہات بیروزگاری ،کرپشن اورگھریلیو پریشانیاں ہیں جن سے تنگ آکرمختلف افراد نے اپنی زندگی کاخاتمہ کیا ۔

ماہرین نفسیات نے کہاہے کہ عوا م میں ڈپریشن کامرض بڑھتاجارہاہے اوراس مرض کی ر وک تھام کےلئے علاج کی ضرورت ہے ۔ماہرین کے مطابق خود کشی کرنے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ا گر افراد کوبروقت نفسیاتی علاج کی سہولت فراہم کر دی جائےتوان کوبھی زندگی خوبصورت نظرآناشروع ہوجاتی ہے ۔ماہرین نے کہاکہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی معاشی پریشانیاں ،بیروزگاری ،دولت کی غیرمساویانہ تقسیم اورگھریلیوجھگڑے ان خودکشیوں کی بڑی و جوہات ہیں ۔ماہرین کاکہناہے کہ اگرڈپریشن کے مریضو ںکابروقت علاج ہوجائے توزندگی کی مشکلات سے وہ تنگ نہیں آتے بلکہ ان کامقابلہ کرتے ہیں ۔۔لاہور کے علاقے شاد باغ میں ایک مسیح خاندان کے شخص نے گھریلیوتنازع پراپنے ہی دوبچوں کو13اپریل کوقتل کرکے خود کشی کرلی تھی۔اس کے بارے میں ماہرین نفسیات نے کہاہے کہ اگرمعاشی ناہمواریوں ،گھریلیو تنازعات ،کرپشن ،بے روزگاری کی روک تھام کےلئے اقدامات کئے جائیں تولوگوں میں ڈپریشن کامرض کم پیداہوتاہے اوران عوامل کی وجہ سے کئی لوگ زندگی سے مایوس ہوکرموت کوگلے لگالیتے ہیں ۔ماہرین نے مزیدکہاہے کہ اگرڈپریشن کے مریضوں کوعلاج کی سہولت فراہم کی جائے تووہ بھی زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتے ہیں اوران کوبھی زندگی کی خوبصورتی کااندازہ ہوجاتاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…