پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

آپ بھی ہوشیار ہوجائیں!وہ بیماری جس کی وجہ سے لاہور میںصرف 4ماہ میں28افراد نے خودکشی کرلی،افسوسناک انکشافات

datetime 28  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیس ک)لاہورکے مختلف علاقوں میں 2017کے ابتدائی چارماہ کے دوران 28افراد نے خودکشی کی ہے ان میں مرداورخواتین دونوں شامل ہیں ۔ ریکارڈ کے مطابق 15 خواتین اور 13 مردوں نے گزشتہ 4 ماہ کے دوران خودکشی کی ۔اس بارے میں ماہرین نفسیات نے کہاہے کہ خودکشی کرنے کی بڑی وجوہات بیروزگاری ،کرپشن اورگھریلیو پریشانیاں ہیں جن سے تنگ آکرمختلف افراد نے اپنی زندگی کاخاتمہ کیا ۔

ماہرین نفسیات نے کہاہے کہ عوا م میں ڈپریشن کامرض بڑھتاجارہاہے اوراس مرض کی ر وک تھام کےلئے علاج کی ضرورت ہے ۔ماہرین کے مطابق خود کشی کرنے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ا گر افراد کوبروقت نفسیاتی علاج کی سہولت فراہم کر دی جائےتوان کوبھی زندگی خوبصورت نظرآناشروع ہوجاتی ہے ۔ماہرین نے کہاکہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی معاشی پریشانیاں ،بیروزگاری ،دولت کی غیرمساویانہ تقسیم اورگھریلیوجھگڑے ان خودکشیوں کی بڑی و جوہات ہیں ۔ماہرین کاکہناہے کہ اگرڈپریشن کے مریضو ںکابروقت علاج ہوجائے توزندگی کی مشکلات سے وہ تنگ نہیں آتے بلکہ ان کامقابلہ کرتے ہیں ۔۔لاہور کے علاقے شاد باغ میں ایک مسیح خاندان کے شخص نے گھریلیوتنازع پراپنے ہی دوبچوں کو13اپریل کوقتل کرکے خود کشی کرلی تھی۔اس کے بارے میں ماہرین نفسیات نے کہاہے کہ اگرمعاشی ناہمواریوں ،گھریلیو تنازعات ،کرپشن ،بے روزگاری کی روک تھام کےلئے اقدامات کئے جائیں تولوگوں میں ڈپریشن کامرض کم پیداہوتاہے اوران عوامل کی وجہ سے کئی لوگ زندگی سے مایوس ہوکرموت کوگلے لگالیتے ہیں ۔ماہرین نے مزیدکہاہے کہ اگرڈپریشن کے مریضوں کوعلاج کی سہولت فراہم کی جائے تووہ بھی زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتے ہیں اوران کوبھی زندگی کی خوبصورتی کااندازہ ہوجاتاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…