منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

گھر کو ٹھنڈا رکھیے، ایئرکنڈیشنر کے بغیر!

datetime 28  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گرمی شدت میں اس وقت بہت اضافہ ہو چکا ہے اور روز بروز بڑھ رہی ہے، بیشتر علاقوں میں پارہ 40 ڈگری سیلسیئس سے اوپر ہے۔ مرد تو کام کاج کے سلسلے میں گھر سے باہر ہی ہوتے ہیں۔ ایسے میں گرمی خواتین کا مزاج خوب پوچھتی ہے۔

ان کے ساتھ ساتھ بچے بھی سورج کی قہرناکی کا نشانہ بنتے ہیں۔گرمی سے بچنے کے لیے گھر میں ایئرکنڈیشنر لگوانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اور اگر لگوانے کی استطاعت ہو تو بجلی کا بل بجلی گرادیتا ہے۔ اس صورت حال میں درج ذیل اقدامات کے ذریعے آپ گھر کو ٹھنڈا رکھ کر گرمی کے اثر میں خاطر خواہ کمی لاسکتی ہیں۔کھڑکیوں اور دروازوں پر گہرے رنگ کے پردے ڈالیں تاکہ سورج کی روشنی اور تپش اندر نہ آنے پائے۔پنکھوں کے نیچے پانی سے بھرے بڑے بڑے ٹپ رکھ دیں۔پورٹ ایبل پنکھوں کا بھی استعمال کریں۔کچن اور باتھ روم کے ایگزاسٹ فین آن رکھیں۔دن کے اوقات میں بلب وغیرہ جلانے سے گریز کریں۔ اگر ناگزیر ہو تو سبز رنگ کے کم وولٹ کے بلب جلائیں۔ سبز رنگ کے وال پیپرز کا استعمال کریں تو گھر میں ٹھنڈک رہے گی۔آٹے والی جوٹ کی بوریاں کھول کر سی لیں اور گھر کی چھت پر بچھادیں۔ پھر انھیں پانی سے بھگو دیں۔ گرمی نیچے نہیں آئے گی۔ چھت پر تھر موپول یا پلاسٹر آف پیرس کے ٹائلز لگوالیں۔ اس سے بھی چھت کی گرمی گھر میں نہ آئے گی۔کمروں سے باہر جاتے وقت لائٹ بند کردیں۔دھوپ اور روشنی کے بغیر زندہ رہنے والے ڑے بڑے گملے دار پودے گھروں کے اندر رکھیں۔تمام کھڑکیوں پر گرمی شروع ہونے سے قبل ہی ونڈو شیڈز یا بلائنڈز لگالیں تاکہ گھر کے اندر گرمی نہ آسکے۔دن کے اوقات میں مشرقی اور مغربی کھڑکیوں پر پردے ضرور ڈالیں تو گھر شام تک ٹھنڈا رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…