منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

’’خبردار ‘‘ چاول پکانے کا یہ طریقہ آپ کو خطرناک بیماریوں میں مبتلا کر سکتا ہے ۔۔ یہ کام فوراً چھوڑ دیں

datetime 28  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر کے لاکھوں لوگ غلط طریقے سے چاول پکا کر اپنی صحت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ عام طور پر چاول ابال کر اور پتیلی میں پانی بھاپ بن جانے تک پکائے جاتے ہیں، لیکن حالیہ تجربات میں یہ بات سامنے آئی کہ چاول پکانے کا یہ عام طریقہ آرسینک زہر کے ذرات سے بچنے کے لیے ناکافی ہے، جو زہریلے صنعتی فُضلے اور کیڑے مار ادویات کے استعمال

کی وجہ سے چاولوں میں پایا جاتا ہے۔چاولوں میں اس کیمیکل کے موجودگی کی وجہ سے صحت کے کئی مسائل جیسے کہ دل کے امراض، ذیابیطس اور کینسر کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ پکائے جانے کی وجہ سے چاولوں سے آرسینک کے ذرات ختم ہوجاتے ہیں، تاہم سائنس دانوں کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایسا صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب چاولوں کو مناسب طریقے سے رات بھر کسی صاف برتن میں بِھگو کر رکھا جائے۔کوئنز یونیورسٹی بیلفاسٹ کے شعبہ بائیولوجیکل سائنسز کے پروفیسر اینڈی مہَرگ نے چاول کو تین طریقوں سے پکانے کا تجربہ کیا، تاکہ پتہ لگایا جاسکے کہ ان طریقوں سے آرسینک کی موجودگی کی سطح میں کتنا فرق آتا ہے۔پہلے طریقے میں پروفیسر اینڈی مہرگ نے چاول پکانے کے عام طریقے یعنی ایک حصہ چاول کو دو حصے پانی کے تناسب سے استعمال کیا۔ جس میں پانی بھاپ بن کر اُڑ گیا۔ اس تجربے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ چاولوں میں آرسینک کی بڑی مقدار باقی رہ گئی تھی۔اس طریقے کے مقابلے میں جب انہوں نے ایک حصہ چاول کو پانچ حصے پانی کے ساتھ استعمال کیا اور زائد پانی کو خارج کردیا تو آرسینک کی مقدار تقریباً آدھی رہ گئی۔تیسرا طریقہ، جس میں چاولوں کو رات بھر پانی میں بھگو کر رکھا گیا، آرسینک کی مقدار 80 فیصد کم ہوگئی۔اس لیے نتیجہ اخذ کیا گیا کہ چاول پکانے کا سب سے محفوظ طریقہ یہ ہے کہ انہیں رات بھر پانی میں بھگو کر رکھا جائے اور اگلے روز انہیں پکانے سے قبل اچھی طرح دھولیا جائے اور پھر ایک حصہ چاول کو پانچ حصے پانی کے تناسب سے پکایا جائے :-

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…