منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

’’اس جڑی بوٹی کا قہوہ پینے والا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا ‘‘

datetime 27  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک ) قہوہ یا ہربل ٹی ہر ملک میں اب عام پائی جاتی ہیں ان کو نہ صرف مختلف بیماریوں میں شفاکیلئے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ جسم کو متناسب رکھنے اور اس کی خوبصورتی برقرار رکھنے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔دنیا بھر میں ملائیشیااور

انـڈونیشیا جڑی بوٹیوں سے مالا مال ممالک کے طور پر جانے جاتے ہیںجہاں نت نئے اور صدیوں سے روائتی انداز میں مروّجہ ہربل قہووں کا راج ہے۔اسی طرح کی ایک جڑی بوٹی تونکات علی کا قہوہ ملائیشیا میں عام ہے اور پوری دنیا میں اس کی بے پناہ مانگ ہے۔ ملائی زبان میں اس جڑی بوٹی کو ’’تونکات علی ‘‘جبکہ عربی میں اسکو ’’عکازہ علی‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ کہیں پائوڈر، کہیں کیپسول اور کہیں ٹی بیگ میں بک رہا ہوتا ہے۔ تونکات علی“ نامی اس جڑی بوٹی کی جڑوں کو گرم پانی میں ابال کر پیا جاتا ہے ۔اسکے طبی فوائد بے شمار ہیں ۔ اس سے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا قہوہ پینے والا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ اس کو مردانہ قوت میں اضافے کیلئے بھی پیا جاتا ہے، اعصاب کی کمزوری میں بے پناہ فائدہ مند ہےجن لوگوں کے گردوں میں پتھریاں ہوں انہیں یہ قہوہ پلایا جاتا ہے ۔”تونکات علی“ پینے والوں کو شوگر نہیں ہوتی،ملیریا کابہترین تریاق ہے۔خون کی گردش کومعمول پر رکھتا ہے۔ملائیشیا اور انڈونیشیا کی خواتین ہارمونز کی گروتھ بڑھانے کے لئے استعمال کرتی ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…