منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

نہار منہ لہسن کھائیں ہر بیماری سے بے فکر ہوجائیں

datetime 25  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹڑنگ ڈیسک)بہت سے لوگ براہ راست کچے لہسن کے جوے کھانا پسند نہیں کرتے بالخصوص صبح کے وقت میں جب کہ معدہ بھی خالی ہوتا ہے۔تاہم اگر یہ بہت سے امراض کا علاج ہو ؟ اگر یہ بہت سے طبی مسائل سے حفاظت کرتا ہو ؟یقینا لہسن ایک قدرتی اینٹی بائیوٹک شمار کیا جاتا ہے جو انسانی جسم پر کسی بھی بیماری کے حملے کی مزاحمت کرتا ہے خاص طور پر اگر اسے خالی پیٹ باقاعدگی کے ساتھ کھایا جائے۔

انسانی صحت سے متعلق امور کی ویب سائٹ “بولڈ اسکائی” کی رپورٹ کے مطابق صبح کے وقت خالی معدے کی حالت میں لہسن کے چند دانے کھانا بلند فشار خون کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور دوران خوان کو سرگرم کردیتا ہے ، اس کے علاوہ یہ جگر اور مثانے کی کارکردگی کو بھی بہتر بناتا ہے۔اگر آپ “اِسہال” سے دوچار ہیں تو لہسن مسئلے کو حل کر دے گا۔ یہ بھوک کو بہتر بناتا ہے اور ہاضمے کے عمل کو مضبوط کرتا ہے۔لہسن کا استعمال انسان کے اعصابی نظام کو تقویت دیتا ہے اور دباؤ کے احساس کو کم کرتا ہے۔علاوہ ازیں لہسن اُن بہترین عناصر میں سے سمجھا جاتا ہے جو انسانی جسم کو زہریلے مواد سے محفوظ رکھتا ہے۔تاہم خیال رہے کہ اگر آپ معدے کے زخم (السر) جیسے طبی مسائل سے دوچار ہیں تو آپ کو چاہیے کہ خالی پیٹ لہسن کھانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…