منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

مریضوں کو اینٹی بائیوٹکس دینی چاہئیں یا نہیں،جانئے طبی ماہرین کیا کہتے ہیں

datetime 24  اکتوبر‬‮  2017 |

لندن(اے این این)برطانیہ کے طبی ماہرین کا کہناہے کہ زیادہ تر مریضوں کو اینٹی بائیوٹکس تجویز کرنے کے بجائے انھیں آرام کرنے کا مشورہ دیا جانا چاہیے۔پبلک ہیلتھ انگلینڈ یا پی ایچ ای کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کا ہر پانچ میں سے ایک نسخہ غیر ضروری ہوتا ہے کیونکہ کئی بیماریاں خود بخود دور ہوجاتی ہیں۔پی ایچ ای کا کہنا ہے کہ دواں کے زیادہ استعمال سے انفیکشنز کا علاج مشکل ہوجاتا ہے اور دوا کے خلاف مزاحمت کرنے

والے ‘سپر بگز’ پیدا ہوجاتے ہیں۔ ادارے کے مطابق مریضوں کو بھی انفیکشنز بڑھنے سے روکنے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔برطانیہ میں ہر سال 5000 افراد دوا کے خلاف مزاحمت کرنے والے انفیکشنز کا شکار ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔بلڈ سٹریم ای کولی نامی خون کے انفیکشن کے شکار ہر 10 میں سے چار افراد کا علاج عام اینٹی باییوٹکس سے ممکن نہیں۔سنہ 2050 تک توقع ہے کہ دواں کے خلاف مزاحمت کرنے والے انفیکشنز کی وجہ سے اس سے زیادہ افراد ہلاک ہوں گے جتنے فی الحال کینسر سے ہوتے ہیں۔اینٹی باییوٹکس کا استعمال نمونیا، گردن توڑ بخار اور دیگر شدید انفیکشنز کے علاج میں خاصا ضروری ہے۔ لیکن پی ایچ ای کا کہنا ہے کہ یہ ہر بیماری کے علاج کے لیے ضروری نہیں ہے۔پی ایچ ای کے مطابق کھانسی اور حلق کی سوجن خود سے ٹھیک ہونے میں تین ہفتے لگتے ہیں جبکہ اینٹی باییوٹکس اس دورانیہ کو کم کرکے ایک یا دو دن پہ لا سکتی ہے۔پی ایچ ای کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر پول کوسفورڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ہمیں عام طور پر اور عام علامات میں اینٹی باییوٹکس کی ضرورت نہیں ہوتی، ہم میں سے اکثر کو مختلف اوقات میں انفیکشنز ہوتی ہیں اور ہم اپنے مدافعتی نظام کی وجہ سے ٹھیک ہوجاتے ہیں۔پروفیسر پول کوسفورڈ سمجھتے ہیں

کہ مریضوں کو ڈاکٹر کے پاس اینٹی باییوٹکس کی توقع لے کر نہیں جانا چاہیے۔پیرا سٹا مول جیسی درد کش ادوایات استعمال کریں۔پروفیسر کوسٹفورڈ کا کہنا ہے کہ ‘حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ اس وقت اینٹی باییوٹکس استعمال کریں جب آپ کو اس کی ضرورت نہیں ہے تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں آپ کو وہ انفیکشن ہوجائے جس میں اینٹی بائیوٹیکٹس اثر نہیں کریں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…