جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

کیلے کے چھلکے کے ایسےحیرت انگیز فوائد کہ آپ انہیں کچرے میں پھینکنا چھوڑ دیں

datetime 21  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کیا آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کیلا صحت کے لیے فائدے مند ہے بالکل اُسی طرح اس کا چھلکا بھی مفید ہے۔تفصیلات کے مطابق کیلا ایک ایسا ذائقہ دار پھل ہے جسے ہر دوسرا شخص پسند کرتا ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا چھلکا کس قدر غذائیت سے بھرپور ہے اور یہ امراض کے لیے کتنا فائدہ مند ہے۔غذائیت سے بھرپور اس پھل کا استعمال وافر

مقدار میں کیا جاتا ہے اور طبی ماہرین بھی کئی بیماریوں میں مریض کو کیلے کو زیادہ سے زیادہ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔عام طور پر لوگ کیلا کھا کر اُس کا چھلکا کچرے میں پھینک دیتے ہیں کیوں کہ وہ نہیں جانتے ہیں یہ اُن کے لیے کتنا مفید ہے۔کیلے کا چھلکا دانتوں کی سفیدی کے لیے مفیدہوتا ہے، کیلے کے چھلکے میں پوٹاشیم کی وافر مقدار موجود ہے جو دانتوں کے پیلے پن کو دور کردیتی ہے، چھلکے کو گندے دانتوں پر رگڑا جائے تو فرق واصح طور پر سامنے آجاتا ہے۔اس سے خارش کا بھی علاج کیا جا سکتا ہے۔کیلے کے چھلکے سے خارش کی بیماری کا علاج بھی ممکن ہے، متاثرہ شخص اگر اپنی خشک جلد پر چھلکے کو رگڑتا ہے تو اس سے جلد آئلی نارمل ہوجاتی ہے، چھلکے پر شہد لگا کر خارش زدہ جلد پر اسے رگڑیں تو جسم کی خارش کم ہوجاتی ہے اور اس عمل سے بیماری ختم بھی ہوجاتی ہے۔یہ مسوں اور دانوں کے خلاف بھی موثر کام کرتا ہے۔ہاتھوں پیروں یا جسم کے کسی بھی حصے پر مسّے (دانے) اندورنی وائرس پیدا ہونے کی وجہ سے نمودار ہوتے ہیں جن کا طویل علاج کیا جاتاہے تاہم کیلے کے چھلکے میں ایک ایسا پروٹین موجود ہے جو اس وائرس کو ختم کرنے میں بہت مدد دیتا ہے جبکہ کیل مہاسے اور

چہرے کی چھائیوں سے پریشان نوجوانوں کیلئے بھی یہ بہترین چیز ہے۔ کیلے کے چھلکے کو آہستہ آہستہ منہ پر لگاکر ان جھائیوں اور جھریوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…