منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

کیلے کے چھلکے کے ایسےحیرت انگیز فوائد کہ آپ انہیں کچرے میں پھینکنا چھوڑ دیں

datetime 21  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کیا آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کیلا صحت کے لیے فائدے مند ہے بالکل اُسی طرح اس کا چھلکا بھی مفید ہے۔تفصیلات کے مطابق کیلا ایک ایسا ذائقہ دار پھل ہے جسے ہر دوسرا شخص پسند کرتا ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا چھلکا کس قدر غذائیت سے بھرپور ہے اور یہ امراض کے لیے کتنا فائدہ مند ہے۔غذائیت سے بھرپور اس پھل کا استعمال وافر

مقدار میں کیا جاتا ہے اور طبی ماہرین بھی کئی بیماریوں میں مریض کو کیلے کو زیادہ سے زیادہ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔عام طور پر لوگ کیلا کھا کر اُس کا چھلکا کچرے میں پھینک دیتے ہیں کیوں کہ وہ نہیں جانتے ہیں یہ اُن کے لیے کتنا مفید ہے۔کیلے کا چھلکا دانتوں کی سفیدی کے لیے مفیدہوتا ہے، کیلے کے چھلکے میں پوٹاشیم کی وافر مقدار موجود ہے جو دانتوں کے پیلے پن کو دور کردیتی ہے، چھلکے کو گندے دانتوں پر رگڑا جائے تو فرق واصح طور پر سامنے آجاتا ہے۔اس سے خارش کا بھی علاج کیا جا سکتا ہے۔کیلے کے چھلکے سے خارش کی بیماری کا علاج بھی ممکن ہے، متاثرہ شخص اگر اپنی خشک جلد پر چھلکے کو رگڑتا ہے تو اس سے جلد آئلی نارمل ہوجاتی ہے، چھلکے پر شہد لگا کر خارش زدہ جلد پر اسے رگڑیں تو جسم کی خارش کم ہوجاتی ہے اور اس عمل سے بیماری ختم بھی ہوجاتی ہے۔یہ مسوں اور دانوں کے خلاف بھی موثر کام کرتا ہے۔ہاتھوں پیروں یا جسم کے کسی بھی حصے پر مسّے (دانے) اندورنی وائرس پیدا ہونے کی وجہ سے نمودار ہوتے ہیں جن کا طویل علاج کیا جاتاہے تاہم کیلے کے چھلکے میں ایک ایسا پروٹین موجود ہے جو اس وائرس کو ختم کرنے میں بہت مدد دیتا ہے جبکہ کیل مہاسے اور

چہرے کی چھائیوں سے پریشان نوجوانوں کیلئے بھی یہ بہترین چیز ہے۔ کیلے کے چھلکے کو آہستہ آہستہ منہ پر لگاکر ان جھائیوں اور جھریوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…