منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

اگلی مرتبہ مرغی کھانے سے پہلے یہ خبر پڑھ لیں خطرے کی گھنٹی بج اٹھی

datetime 8  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ہمارے ہاں ہر گھر میں مرغی بہت شوق سے پکائی اور کھائی جاتی ہے لیکن حال ہی میں ایک ایسی تحقیق کی گئی ہے جس کے بعد مرغی کھانے سے قبل آپ بار بار سوچیں گے ۔ انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ ریسرچ کی جانب سے کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کچی مرغی سے نکلنے والے پانی میں بیکٹیریا کی انتہائی افزائش ہوتی ہے اور یہ انسانی صحت کیلئے حد سے زیادہ خطرناک ہے۔ تحقیق میں ماہرین نے اس جگہ سے نمونے اکٹھے کئے جہاں مرغی رکھی گئی تھی اور اورگرد اس کا پانی بھی موجود تھا۔ ٹیسٹ کے نتائج نے ماہرین کے ہوش اڑاد ئیے

کیونکہ اس پانی میں ایسے بیکٹیریا پائے گئے جو انسانی صحت کیلئے زہر قاتل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کچی مرغی کے پانیمیں وہ بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو انسانی معدے کیلئے خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ فوڈ پوائزنگ کی وجہ بنتے ہیں۔ تحقیق کار ہیلن برائون کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ مرغی پکانے سے قبل ایسی جگہ رکھی جائے جہاں مرغی کا پانی پکانے والی جگہ کے قریب نہ ہو اس طرح جب آپ بازار سے مرغی خریدں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ مرغی صاف ستھری جگہ رکھی گئی ہے اور اس کا پانی اس جگہ موجود نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…