منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

کیا آپ چاول ابالنے کے بعد ان کا پانی ہر گز نہ پھینکیں کیونکہ اس سے آپ ہر ماہ ہزاروں روپےبچا سکتے ہیں،جانئے دلچسپ معلومات

datetime 7  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) خواتین کے ساتھ مرد حضرات بھی چہرے کی جھریاں، چھائیاں اورکیل مہاسے سے بچنے کیلئے کریموں پر ہر ماہ ہزاروں روپے لگادیتے ہیں مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ اگر آپ چہرے کی

جھریاں، چھائیاں اور کیل مہاسوں کے اساتھ چہرے کو جوان اور خوبصورت بنانا چاہتے ہیں تو چاولوں کا پانی کا استعمال کریں، اس سے نہ صرف آپ ان مصنوعی کریموں سے بچ سکتے ہیں بلکہ ہزاروں روپے کے ضیاع سے بھی بچ جائیں گے۔ جلد کے مردہ خلیوں کو ختم کر کے نئی جلد پیدا کرنے کیلئے چاولوں کو 20منٹ تک ہلکی آنچ پر ابلانے کے بعد اس کا پانی ایک بوتل میں رکھ لیں۔ اب اس پانی کو آپ کیل مہاسوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر یہ سر کے بالوں کیلئے بھی نہایت مفید ہے۔ کنڈیشنر کی جگہ چاولوں کا یہ پانی بالوں پر لگائیں اور کچھ دیر انتظار کے بعد نیم گرم پانی سے بال دھول لیںآپ اپنے بالوں میں فرق صاف محسوس کریں گے اس کی وجہ سے بال نرم و ملائم اور چمکدار ہوں گے۔ ایگزیما کے شکار افراد بھی چاولوں کا یہ پانی استعمال کر سکتے ہیں۔ خارش ، چبھن اور جلن کی شکایت پر چالوں کا یہ پانی دن میں دو سے تین بار لگائیں آپ افاقہ محسوس کرینگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…