منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

اب سرجری کی ضرورت نہیں مصنوعی دانت سے چھٹکارا پائیں، قدرتی طریقے سے دانت خود اُگائیے

datetime 3  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کولمبیا یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے ڈاکٹر جیریمی ماؤ کی سربراہی میں طویل تحقیق کے بعد ایک ایسا قدرتی طریقہ دریافت کیا ہے جس میں ٹوٹنے والے دانتوں کو دوبارہ قدرتی طریقے سے اگایا

جا سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق اسٹیم سیلز(جسم کے کسی بھی عضو میں موجود خلیات بنانے کی صلاحیت رکھنے والے خلیے) کے ذریعے 9 ماہ میں قدرتی طور پر دانت اگانا ممکن ہے۔ڈاکٹرجیریمی کے مطابق اسٹیم سیلز نئے دانتوں کی نشوونما میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں اور اس قدرتی طریقے کی دریافت کے بعد دانتوں کی سرجری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اسٹیم سیلزکودانتوں کے ساتھ ملاکر ان میں ٹشوز شامل کرتے ہوئے نئے دانت اگائے جاسکتے ہیں۔ اگر کوئی دانت ٹوٹ جائے تو اس کے نچلے حصے میں موجود خالی مسوڑھے کے اندر اسٹیم سیلز اور ٹشوز کا ملاپ کرنے سے دانت دوبارہ اُگنا شروع ہوجاتا ہے۔ مصنوعی دانتوں سے چھٹکارا حاصل کرنےاور قدرتی طور پر دانت اگانے کیلئے اس آسان عمل سے جہاں مصنوعی دانت لگانے والے ڈاکٹروں کی چھٹی ہو جائے گی بلکہ اس سے آپ کو بار بار ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت بھی نہیں رہے گا۔ یہ عمل صبر آزما ضرور ہے کیونکہ یہ عمل دانت اگانے کیلئے 9ہفتے لیتا ہے تاہم اس سے آپ دیگر زحمتوں سے بچ سکتے ہیں۔ یہ قدرتی طریقہ اپنے آپ میں مکمل اور ہر ایک کے لیے ہے یعنی جو چاہے اسے آزما سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…