منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی بہو کے پکوانوں کی دُھوم

datetime 28  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور کی رہنے والی ماہ نوُر پاکستان میں فیزیوتھیرپسٹ تھیں۔ تین سال قبل ان کی شادی سرینگر کے راج باغ علاقے میں رہنے والے اپنے ہی کزن حمزہ فاروق کے ساتھ ہوئی۔حمزہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد خاندانی تجارت میں ہی تھے لیکن شادی کے بعد ماہ نُور فیزیو رہیں نہ حمزہ تاجر۔ دونوں نے اپنے ہی گھر میں لذیذ پکوانوں کا کاروبار شروع کردیا ہے۔ماہ نُور کو بچپن سے ہی کُکنگ کا شوق تھا اور شادی کے بعد جب ان کے ہاتھ کا کھانا

ان کے سُسرال والوں نے کھایا تو وہ انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔حمزہ کہتے ہیں: ‘میرے ایک چچازاد بھائی نے کھانا کھاتے ہی کہا کہ یار تم لوگ ریستوران کھول دو، خوب بزنس ہوگا۔’اس طرح حمزہ نے تجارت چھوڑ دی، اور ماہ نُور نے فیزیوتھیرپی کے شعبہ میں نوکری کی تلاش۔ آج کل دونوں راج باغ میں واقع اپنے ہی گھر کے اندر ‘پاک فوڈ ایکسپریس’ نام سے ہوم ڈیلوری ریستوران چلاتے ہیں، اور لوگ مزے لے لے کر ماہ نور کے پکوان کھاتے ہیں۔ماہ نور کہتی ہیں کہ کشمیر میں کھانوں اور مختلف پکوانوں کا کلچر نہیں ہے۔ ‘جہاں دیکھو وازوان ہے، اور کچھ بھی نہیں۔ ہمارے یہاں طرح طرح کی چیزیں ہیں۔ ہم نے پاکستانی بریانی، حلیم، تندوری مرغ وغیرہ سے ہی شروع کیا، پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کو پیار بھی ہے لہذا یہاں پاکستانی پکوان فوراً مقبول ہوگئے۔ لیکن ہم چینی، اطالوی اور دوسرے ملکوں کی ریسیپیز پر بھی کام کررہے ہیں۔’کشمیر میں پاکستانی شہریوں کے لیے زندگی آسان نہیں ہوتی۔ گو ماہ نور کو ایک سال کا ویزا دیا گیا ہے تاہم شہر سے باہر جانا ہو، کسی پیشہ وارانہ کالج میں داخلہ لینا ہو یا کوئی اور کام کرنا ہو تو اس کے لیے سرکاری اجازت ایک طویل اور تھکا دینے والا عمل ہے۔انھوں نے کہا: ‘یہی وجہ ہے کہ ہم نے گھر سے ہی شروع کیا، لیکن لوگوں کا ردعمل دیکھ کر اب ہم باقاعدہ ریستوران کی سوچ رہے ہیں۔

‘ماہ نوُر پہلے پہل کشمیر میں بوریت کا شکار تھیں۔ ‘لاہور میں دیر رات تک لوگ کھاتے پیتے ہیں، بازاروں میں رونق ہوتی ہے۔ لیکن یہاں سات بجے کے بعد سناٹا ہوتا ہے۔ اب سردیاں آرہی ہیں مجھے ڈر لگتا ہے، کیونکہ یہاں میں گھٹن کا شکار ہوجاتی ہوں۔ شکر ہے ہم نے پاک فوڈ ایکسپریس شروع کیا، ورنہ میرا تو دم ہی گھٹ جاتا۔’حمزہ اور ماہ نور ‘پاک فوڈ ایکسپریس’ کی وجہ سے خوش ہیں۔ حمزہ کہتے ہیں: ‘اچھی بات یہ ہے کہ ہم دونوں ساتھ ساتھ ہیں۔’

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…