منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے اہم علاقے کو ’’ایڈز‘‘ جیسی خوفناک بیماری نے چاروں طرف سے جکڑ لیا، کتنی ہلاکتیں ہو گئیں؟

datetime 27  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)صوبہ پنجاب کے ضلع چنیوٹ میں ایڈز کے مزید 2 کیس سامنے آگئے جس کے بعد صرف چنیوٹ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 57 ہوگئی۔ نجی ٹی وی چینل ’’اے آر وائی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق اب تک 17 افراد ایڈز کے مرض سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ شہری علاقوں کی طرف نقل مکانی کے باعث مرض گاؤں سے شہر کی طرف بھی پھیلنے لگا۔تفصیلات کے مطابق چنیوٹ کے علاقہ چک نمبر127 بھٹی والا

میں ڈھائی ماہ قبل محکمہ صحت کی طرف سے ہیپاٹائٹس کا کیمپ لگایا گیا تو وہاں 70 افراد کے ٹیسٹوں میں سے 42 میں ایچ آئی وی کا رزلٹ مثبت آیا جس کے بعد ضلعی حکومت سمیت صوبائی حکومت بھی حرکت میں آگئی۔مذکورہ مقام پر مختلف کیمپ لگاتے ہوئے ان افراد کے خون کے نمونے پی سی آر کے لیے لاہور بھجوائے گئے جس کی رپورٹ تاحال ضلعی آفیسرز تک نہیں پہنچائی گئی تاہم محکمہ صحت کی طرف سے وہاں ادویات اور بچاؤ کے طریقوں سے متعلق پمفلٹ تقسیم کردیے گئے۔ایڈز کے پھیلاؤ کے خوف سے وہاں مریضوں سمیت دیگر لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ علاقہ میں موجود طالبات کا اسکول تعداد کم ہوجانے کے باعث بچوں کے اسکول میں ضم کردیا گیا ہے۔ایڈز کے مریضوں میں 5 سال کی بچی سے 80 سال کی خاتون تک کے افراد شامل ہیں۔اہل علاقہ کے مطابق جاوید نامی ایک شخص دبئی سے 10 سال قبل بیماری کی وجہ سے واپس آیا اور دو ماہ بعد واپس جانے لگا تو ایئرپورٹ سے اسے بیماری کی وجہ سے واپس بھیج دیا گیا۔ 6 ماہ بعد اس کا انتقال ہوگیا۔ جاوید نامی اس شخص نے علاقہ کے عطائی ڈاکٹروں سے علاج کروایا تھا۔ایڈز کے باعث چک نمبر127 کے 2 خاندانوں میں 17 افراد کی ہلاکت بھی ہوچکی ہے جبکہ اب لوگ شہری علاقوں کی طرف نقل مکانی کررہے جس کے باعث یہ مرض شہری علاقوں میں بھی پھیل رہا ہے۔دوسری طرف محکمہ صحت

کے مطابق یہ مرض جنسی تعلق سے نہیں بلکہ خون کی غیر محفوظ منتقلی، عطائی ڈاکٹروں کی طرف سے ایک ہی سرنج کو بار بار استعمال کرنے اور حجام کی دکانوں پر موجود بلیڈ کے دوبارہ استعمال سے پھیل رہا ہے۔سی او ہیلتھ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر عطائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر تحصیل کا ڈپٹی ڈی ایچ او روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ جمع کروا رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جس بھی تحصیل میں عطائی ڈاکٹر موجود ہوگا اس علاقہ کے ڈپٹی ڈی ایچ او کے خلاف بھی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…