منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

برائلر مرغی کے وہ نقصانات جن کے بارے شایدآپ نے کبھی سوچا ہی نہیں ہوگا‎

datetime 25  ستمبر‬‮  2017 |

نیویارک (نیوز ڈیسک) بیف اور مٹن کے قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کا نعم البدل یعنی مرغی کااستعمال شروع کردیاگیالیکن امریکی ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بازار میں دستیاب مرغی کا گوشت متعدد بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے اوراس میں طرح طرح کے جراثیم موجود ہیں۔ سیلمونیلا یہ ایک بیکٹیریا ہے جو کہ متعدد جگہوں پر دستیاب مرغی کے گوشت میں پایا گیا ہے۔

یہ بیکٹیریا سارے جسم پر خطرناک سوزش پیدا کرسکتا ہے، اس سے بچنے کیلئے گوشت کو بلند درجہ حرارت پر پکانا چاہیے۔ مرغی کے گوشت میں سیلمونیلا سے بھی خطرناک جراثیم ای کولی بکثرت پایا گیا ہے اس کی وجہ سے پیشاب کی نالی کا انفیکشن پیدا ہوسکتا ہے۔ مرغیوں کی خوراک میں خطرناک دھات آرسینک استعمال کی جاتی ہے تاکہ گوشت کا وزن بڑھایا جاسکے۔ یہ دھات جانلیوا بھی ہوسکتی ہے اور بہت سی بیماریوں کا موجب ہے۔ مرغیوں کی خوراک میں اینٹی بائیوٹک اجزائ کا بھاری مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا گوشت کھانے والوں پر اینٹی بائیوٹک ادویات کا اثر نہیں ہوتا۔ چکن نگٹس میں چربی اور جلد اور اندرونی اعضاءمیں پائی جانے والی خون کی نالیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان کو کھانے سے خون کی بیماری انیمیا اور جسم کی رگیں پھولنے کا مسئلہ پیش آسکتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…