منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں خطرناک وائرس ’’چکن گنیا‘‘ حقیقت میں پاکستان کے کس دشمن ملک سے آیا ہے؟ طبی ماہرین کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 26  دسمبر‬‮  2016 |

کراچی(آن لائن) پاکستانی طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں وبائی شکل اختیار کرنیوالا چکن گنیا کا وائرس درحقیقت بھارت سے آیا ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ میں پاکستانی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں پھیلنے والا چکن گنیا کا مرض اصل میں بھارت کا تحفہ ہے کیونکہ بھارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران چکن گنیا کی وبا کئی بار حملہ آور ہوچکی ہے اور اس سال بھی یہ مرض بھارت کے مختلف شہروں میں پھیلا ہوا ہے۔
اس سال بھی چکن گنیا کی شدت دیکھتے ہوئے بھارتی محکمہ صحت نے اکتوبر میں ریڈ الرٹ جاری کردیا تھا لیکن پاکستانی حکام نے اسے یکسر نظرانداز کردیا کیونکہ پاکستان میں پہلے کبھی چکن گنیا کی وبا مشاہدے میں نہیں آئی تھی۔واضح رہے کہ معروف پاکستانی ماہرِ حشریات پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد پہلے ہی یہ خدشہ ظاہر کرچکے تھے کہ کراچی میں چکن گنیا کی وبا موجود ہوسکتی ہے۔
اس وقت خاص طور پر بھارتی دارالحکومت دہلی میں چکن گنیا کی وبا سب سے زیادہ شدید ہے جہاں اب تک چالیس ہزار سے زیادہ شہری اس بیماری سے متاثر ہیں جبکہ بھارتی حزبِ اختلاف نے نریندر مودی کی حکومت کو چکن گنیا کے پھیلا کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی میں پچھلے کئی سال سے کچرے کے ڈھیر جمع ہوتے جارہے ہیں جہاں چکن گنیا پھیلانے والے مچھر کی بڑی بڑی کالونیاں وجود میں آچکی ہیں۔
چکن گنیا پھیلانے والا مچھر وہی ہے جس کی وجہ سے ڈینگی کا مرض پھیلتا ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ چکن گنیا کوئی جان لیوا مرض نہیں اور ایک ہفتے سے دس دن میں خود بخود ختم ہوجاتا ہے تاہم بیماری کے دوران مریض کو مکمل آرام اور جوڑوں کا درد کم کرنے والی عام دوائیں کھانی چاہئیں تاکہ تکلیف کم سے کم رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…