منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

اگر آپ انجکشن کی سوئی سے ڈرتے ہیں تو یہ خبر آپ کے لئے ہی ہے ۔۔۔ ماہرین نے زبردست ایجاد کر ڈالی

datetime 6  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ماہرین کے مطابق سیپیوں (مسل) میں پائے جانے والے قدرتی اجزا سے متاثر ہوکر یہ سوئی بنائی گئی ہے۔ سیپیوں میں پائے جانے والا صدفہ ایک لیسدارمادے کے ساتھ سیپیوں سے جڑا رہتا ہے۔ یہ ایجاد ایسے مریضوں کے لیے مؤثر ہے جن کے جسم سے بہنے والا خون رکتا نہیں۔ اس کے علاوہ ہیموفیلیا، ذیابیطس اور آخری درجے کے کینسر کے مریض بھی اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں جن کو سوئی یا کینولہ لگانے کی صورت میں پیچیدہ مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔اسی طرح پلاسٹک سرجری می بسا اوقات اتنا خون بہتا ہے کہ اسے روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ مواد ایک جل کی صورت میں کام کرتا ہے جو کیٹے کولکس نامی پالیمر پر مشتمل ہے اور عین اسی طرح کام کرتا ہے جس طرح سیپ کاکیڑاایک چپکنے والے مادے کے ذریعے سیپ سے جڑا رہتا ہے۔ اسے جنوبی کوریا میں واقع ’کورین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ کے ماہرین نے تیار کیا ہے۔جب اسےصحتمند اور ہیموفیلیا کے شکار جانوروں پر آزمایا گیا تو اس نے فوری طور پر سوئی کے زخم کو بھر کر برابر کردیا۔ اس طرح یہ ایک اسٹیکر کی طرح زخم سے جڑ جاتا ہے اور سوراخ ک بند کردیتا ہے۔ اس سے انفیکشن کو روکنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…