منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

ہڈیوں کو مضبوط کرنے اور جسم کو طاقتور بنانے کیلئے ماہرین نے ایسا شاندار نسخہ بتا دیا کہ اب ڈاکٹرز کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہیں

datetime 22  ستمبر‬‮  2016 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسکڈیسک)انسانی جسم میں ہڈیوں کی نشوونما اور مضبوطی میں وٹامن ڈی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ طبی سائنس کے مطابق ایک صحت مند انسانی جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار فی لیٹر پچاس نینو مول ہوتی ہے۔اگر یہ مقدار تیس نینو مول سے کم ہونے لگے تو ہماری ہڈیاں کم زور ہوسکتی ہیں اور ان کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ غذا کے علاوہ سورج بھی اس کے حصول کا بڑا ذریعہ ہے۔
ہڈیوں کی نشوونما اور مضبوطی میں کیلشیم اور دیگر اجزا وٹامن ڈی کے ساتھ مل کر ہی قدرتی طور پر اپنا کام بہتر انداز سے انجام دیتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق کیلشیم اور وٹامن ڈی میں خاص تعلق ہے۔ ان کا مرکب خصوصاً ہڈیوں میں نئے خلیے بننے کے عمل میں نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ کیلشیم اور وٹامن ڈی کے قدرتی عمل ہی سے ہماری ہڈیاں، ان کے جوڑ اور پٹھے اپنے افعال بہتر طریقے سے انجام دے پاتے ہیں۔ وٹامن ڈی کی بدولت جسم کا مدافعتی اور ہڈیوں کا نظام مضبوط رہتا ہے۔ تاہم غیرمتوازن خوراک ہمارے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کا باعث بن رہی ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کی ضرورت معمول کی غذاؤں سے پوری نہیں ہوسکتی اور اس کے لیے انسان کو سورج کی روشنی میں بھی وقت گزارنا چاہیے۔ دھوپ میں ہمارا جسم تیزی سے وٹامن ڈی تیار کرتا ہے۔محققین کے مطابق وٹامن ڈی بنیادی طور پر جلد میں بنتا ہے، مگر اس کا تقریباً نوے فی صد براہ راست دھوپ پڑنے سے بنتا ہے۔ تاہم دنیا بھر میں لوگوں کی اکثریت دن کا بڑا حصّہ اپنے گھروں، دفاتر یا دوسری مختلف عمارتوں کے اندر گزارتی ہے اور یوں وہ دھوپ سے محروم رہ جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ اپنے معالج کی ہدایت کے مطابق وٹامن ڈی کے کیپسولز استعمال کریں جو جسم کی ضرورت پوری کرسکتا ہے۔
برطانوی طبی محققین کا کہنا ہے کہ ایک سال کی عمر کے بعد ہر انسان کو ہڈیوں اور پٹھوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے یومیہ دس مائیکروگرام وٹامن ڈی کی ضرورت پڑتی ہے۔ ماہرِ غذائیت ڈاکٹر لوئیس لیوی کے مطابق متوازن غذا اور تھوڑی بہت دھوپ وٹامن ڈی کی کمی سے بچا سکتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس کمی سے بچوں میں ہڈیوں کے مسائل اور سوکھے کی بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔ماہرینِ غذائیت کے مطابق مچھلی، انڈے، بڑا گوشت، جگر اور اناج وغیرہ میں وٹامن ڈی موجود ہے، لیکن یہ ہر ایک کو میسر نہیں اور دوسری طرف ہماری اکثریت غذا میں توازن کا خیال نہیں رکھ پاتی۔ اس لیے انہیں وٹامن ڈی کے کیپسولز کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ کیلشیم اور وٹامن ڈی کے حصول پر توجہ دینا چاہیے، کیوں کہ معمولی ضرب یا گرنے سے ہڈیاں ٹوٹ سکتی ہیں اور قدرتی طور پر وہ نقصان پورا نہیں ہوسکتا اور سرجری کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…