منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

ایڈز نے اہم صوبے میں خطرے کی گھنٹی بجادی،حیرت انگیز اضافہ

datetime 5  ستمبر‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)سندھ میں ایڈز کنٹرول پروگرام غیر فعال ہونے کے باعث صوبے میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔گزشتہ سال ایچ آئی وی ایڈز کے 1575مریضوں کی سندھ میں تشخیص ہوئی ہے جبکہ رواں سال اب تک 457مریض سامنے آچکے ہیں۔ صوبے میں 4507مریض رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 2533کو ادویا ت دی جارہی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت کئی سالوں سے پرانے اعداو شمار ہی جاری کیے جارہے ہیں جبکہ دس برس سے کوئی سروے نہیں کیا جاسکا ہے ۔ ایڈز کنٹرول پروگرام کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈز کنٹرول پروگرام کے پاس فنڈز نہ ہونے کے باعث این جی اوز کی مدد سے آگہی پروگرام بھی ختم کردیئے گئے ہیں جبکہ ایڈز سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لئے دوائیں بھی میسر نہیں ہیں۔اعداد وشمار کے مطابق 10سالوں کے دوران ایچ آئی وی ایڈز سے 340افراد انتقال کر چکے ہیں۔ گزشتہ سال ایچ آئی وی ایڈز کے 1575مریضوں کی سندھ میں تشخیص ہوئی ہے جبکہ رواں سال اب تک 457مریض سامنے آچکے ہیں۔ صوبے میں 4507مریض رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 2533کو ادویا ت دی جارہی ہیں۔ سرنج کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد دنیا میں سب سے زیادہ ایڈز کا شکار ہیں پاکستان میں ان کاتناسب37فیصد ہے جبکہ کراچی میں سرنج کے ذریعے نشہ کرنے والے 46فیصد افراد ایڈز کا شکا ر ہیں ۔ 16ہزار قیدیوں کی جیلوں میں اسکریننگ کی گئی جن میں سے 200سے زائد میں مرض کی تشخیص ہوئی ۔اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایڈز کا پھیلاؤ جنسی تعلقات، ایڈز میں مبتلا مریض کا خون لگانے ، استعمال شدہ سرنج،بلیڈاور دانتوں کے علاج کے اوزار سے پھیل سکتا ہے اس سے بچاؤ کے لئے استعمال شدہ سرنج استعمال نہ کی جائے ، اچھی لیباریٹری سے خون لیا جائے ، حجام سے نیا بلیڈ استعمال کرایا جائے ،اپنی بیوی تک محدود رہا جائے ،دانتوں کے علاج کے دوران صاف اوزار استعمال کیے جائیں۔ اس بیماری کا کوئی علاج تاحال دریافت نہیں ہوا احتیاط ہی اس کا علاج ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…