منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

جاپانی ماہرین کے لاہور کے بارے میں انکشاف نے تہلکہ مچادیا

datetime 27  اگست‬‮  2016 |

کراچی (نیوزڈیسک)جاپانی ماہرین کے لاہور کے بارے میں انکشاف نے تہلکہ مچادیا،ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے شہروں چینڈو اور چن سن میں جہاں دو کروڑ بیس لاکھ افراد بستے ہیں، میتھین گیس کی سب سے زیادہ مقدار پائی گئی ہے۔ دوسرے مقام پر پاکستان کا شہر لاہور ہے۔جاپان کے موسمیاتی مصنوعی سیارچے ایبوکی نے چین،پاکستان ہندوستان اور امریکہ کے صنعتی مراکز میں ضرررساں گیس میتھین کی بڑی مقدار کی موجودگی کا پتہ چلایا ہے۔ تحقیق کے نتائج پیرس میں ہونے والی آب وہوا کی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس COP-21 سے چند روز پہلے سامنے لائے گئے ہیں۔جاپان کی ماحولیات کے تحفظ سے متعلق وزارت اور ماحولیات بارے تحقیق کے انسٹیٹیوٹ نے مصنوعی سیارچے کی جانب سے اگست 2009 سے دسمبر 2012 تک جمع کیے گئے کوائف کا تجزیہ کیا ہے۔ اس میں انہوں نے بڑی بڑی دلدلوں اور جنگلات کی آگ سے پیدا ہونے میتھین گیس کو شامل نہیں کیا ہے۔نتائج کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے شہروں چینڈو اور چن سن میں جہاں دو کروڑ بیس لاکھ افراد بستے ہیں، میتھین گیس کی سب سے زیادہ مقدار پائی گئی ہے۔ دوسرے مقام پر پاکستان کا شہر لاہور ہے۔ اس کے بعد ہندوستان کا شہر کلکتہ اور بنگلہ دیش کا دارالحکومت ڈھاکہ آتا ہے۔ ماحولیاتی حوالے سے امریکہ کے بدترین شہر لاس اینجلس، سان فرانسسکو اور نیویارک ہیں۔ روس کا واحد شہر جو اس فہرست میں شامل ہے وہ سرگوت ہے۔میتھین ماحولیات کے حوالے سے انتہائی ضرررساں گیسوں میں شمار کی جاتی ہے۔ وہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی نسبت، جس کو پھیلائے جانے کی سارے ماہرین ماحولیات کی جانب سے مخالفت ہوتی ہے، 25 گنا زیادہ پائی جا رہی ہے۔رپورٹ پر طبی ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ،آلودہ ترین آب و ہو ا کی وجہ سے مختلف امراض میں تیزی سے پھیلاﺅ نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو لاہور کے شہریوں کو ناقابل تلافی نقصان کاسامنا ہوسکتاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…