منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

روزانہ استعمال کی ایسی چیز جو آپ کوموت کے قریب لے کر جا رہی ہے

datetime 23  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)انسان پتھروں کے دور سے نکل کر ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم رکھ چکا ہے ۔ہر آنے والا نیا دن انسانوں کیلئے آسانیاں لاتا ہے ۔ پہلے وقتوں میں صحت کے متعلق ایسے ایسے جتن کئے جاتے تھے کہ رہے نام اللہ کا ۔ کبھی انڈے توڑ کر پئے جارہے ہیں تو کبھی کشتے بناکر کھائے اور کھلائے جا رہے ہیں ۔ آج کے دور میں ایسا نہیں ہوتا ۔ بناوٹی چیزیں ، بناوٹی مکھن وغیرہ وغیرہ۔ خیر تو جناب ماہرین کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق مکھن، گوشت یا کریم میں پائے جانے والا سچورٹیڈ فیٹ آپ کی ہلاکت کی وجہ نہیں بن سکتا مگر مارجرین سے ایسا ضرور ہوسکتا ہے۔ یہ دعویٰ کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ اگرچہ عام طور پر ماہرین غذائیت لوگوں کو حیوانی چربی سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں مگر اب تک کی سب سے بڑی اس کینیڈین تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ان سے فالج، امراض قلب یا ذیابیطس کا خطرہ نہیں بڑھتا۔میک ماسٹر یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ٹرانس فیٹس جو پراسیس فوڈ جیسے مارجرین میں موجود ہوتے ہیں، موت کا خطرہ 34 فیصد تک بڑھا دیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق برسوں سے ہر ایک کو مشورہ دیا جارہا ہے کہ چربی کا استعمال کم کردیں تاہم درحقیقت ٹرانس فیٹس میں کسی قسم کے طبی فوائد نہیں اور یہ امراض قلب کا خطرہ نمایاں کرسکتے ہیں جبکہ سچورٹیڈ فیٹس میں یہ بات واضح نہیں۔ تاہم محققین کا کہنا تھا کہ ان نتائج کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ سچورٹیڈ فیٹس کا استعمال بہت زیادہ کرنے لگے کیونکہ ہمیں ان کی زیادہ مقدار کے استعمال کے بھی صحت کے لیے فوائد کے شواہد نہیں ملے۔سچورٹیڈ فیٹس عام طور پر حیوانی مصنوعات جیسے مکھن، گائے کے دودھ، گوشت، مچھلی اور انڈے کی زردی میں پائے جاتے ہیں جبکہ چاکلیٹ اور پام آئل میں بھی ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ٹرانس فیٹس عام طور پر صنعتی طور پر تیار کردہ نباتاتی آئل کے ذریعے حاصل ہوتے ہین جنھیں مارجرین اور بیکری مصنوعات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کینیڈین تحقیق میں 10 لاکھ سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد کہا گیا کہ سچورٹیڈ فیٹس کے صحت پر مضر اثرات کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ یہ تحقیق برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہوئی :۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…