بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

بلڈ پریشر قابو میں رکھنے کا آسان اور آزمودہ طریقہ، ڈاکٹرز کو بھی بھول جائیں گے

datetime 16  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)جو لوگ اپنے دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، اگر وہ ہلکی پھلکی چہل قدمی کو عادت بنالیں تو دن اور رات کو اپنے اوسط بلڈ شوگر کی بڑھتی ہوئی سطح کو کم کرسکتے ہیں۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ایریزونا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بلڈ گلوکوز کی سطح میں کمی لانے کے لیے اگر لوگ کچھ کرسکتے ہیں تو اس کے لیے سست رفتاری سے چہل قدمی کو عادت بنانا ہوگا۔تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ دن بھر میں عام طور پر لوگ دفتری اوقات میں اپنا بہت زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں جو مختلف جسمانی امراض کا باعث بن سکتا ہے مگر اس سے بچنے کے لیے کچھ دیر کھڑے رہنا یا چہل قدمی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔اس تحقیق کے دوران محققین نے موٹاپے کا شکار 9 افراد کے بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کے لیول کو ایک ہفتہ تک جانچا اور پھر انہیں دن میں 10 سے 30 منٹ تک کے پانچ وقفوں کے ساتھ کھڑے رہنے کی ہدایت کی گئی۔نتائج سے معلوم ہوا کہ چہل قدمی یا کھڑے رہنے کے نتیجے میں ان افراد کا بلڈ شوگر لیول معمول کی سطح پر آنا شروع ہوگیا۔محققین کے مطابق طرز زندگی میں اس معمولی سی تبدیلی سے 24 گھنٹے کے دوران بلڈ شوگر کی سطح میں 5 سے 12 فیصد تک کمی ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…