بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

فالج کے خطرے میں سنگین اضافہ کر دینے والی عام سی عادت، خود بھی محفوظ رہیں اور اپنے پیاروں کو بھی محفوظ رکھیں

datetime 7  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایسسین یونیورسٹی ہاسپٹل کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بے خوابی اور حد سے زیادہ سونا دماغ تک جانے والی خون کی فراہمی کو روکنے کا باعث بن سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق بہت کم یا زیادہ نیند کی صورت میں فالج کا دورہ پڑنے سے صحت یابی کا امکان بہت کم ہوجاتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ نیند کے معمولات میں تبدیلی منفی اثرات کا باعث بنتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ نیند کے مسائل عام طور پر دو وجوہات کی بناء4 پر ہوتے ہیں ایک دوران نیند نظام تنفس کا متاثر ہونا (خراٹے) اور دوسرا بے خوابی یا نیند نہ آنا۔تحقیق کے مطابق ایسے شواہد ملے ہیں جن کے مطابق نیند کے دوران نظام تنفس کے مسائل فالج کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں جبکہ بے خوابی بھی اس جان لیوا مرض کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ اس سے ریکوری کے امکانات بھی کم کرتی ہے۔یہ تحقیق طبی جریدے جرنل نیورولوجی میں شائع ہوئی۔قبل ازیں ٹیکساس اے اینڈ ایم ہیلتھ سائنس سینٹر کالج آف میڈیسین کی ایک تحقیق کے مطابق ملازمت کے کوئی مخصوص اوقات نہ ہونا لوگوں میں جان لیوا فالج کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
اس سے پہلے یہ بات پہلے ہی سامنے آچکی ہے کہ مختلف شفٹوں میں کام کرنے والے افراد میں دل کے دورے اور موٹاپے جیسے امراض کا بھی بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے مگر پہلی بار یہ شواہد سامنے آئے ہیں کہ یہ دماغی انجری کا بھی باعث بن سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق انسانی جسم دن اور رات کے معمولات کا عادی ہوتا ہے جس کو ایک اندرونی گھڑی کنٹرول کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ کب سونا، کب جاگنا، کھانا اور دیگر کام کرنے ہیں۔تاہم جب کوئی شخص کبھی دن، کبھی رات میں کام کرتا ہے تو اس کی جسمانی گھڑی نیند اور کھانے کے معمولات میں غیرمعمولی تبدیلی سے الجھن کا شکار ہوجاتی ہے اور مختلف امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…