بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

اگر آپ فیس بک استعمال کرتے ہیں تو آپ بھی ان بیماریوں کے آسان شکار ہیں

datetime 4  اگست‬‮  2016 |

لندن( مانیٹرنگ ڈیسک ) فیس بک کا بے تحاشا استعمال صارفین کو مضطرب کرنے کے علاوہ اداس بھی کرسکتا ہے جب کہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق 5 میں سے ایک فرد نے اقرار کیا ہے کہ فیس بک استعمال کرکے وہ ڈپریشن اور اداسی کے شکار ہورہے ہیں۔اس حوالے سے برطانیہ میں کیے گئے سروے میں 69 لاکھ افراد نے حصہ لیا اور انہوں نے اقرار کیا کہ جب وہ دوستوں کی پوسٹ سے خود کا موازنہ کرتے ہیں تو اکثر مشتعل اور مضطرب ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے 56 فیصد افراد نے اعتراف کیا ہے کہ فیس بک استعمال کرنے سے ان کے اوپر دبا ہوتا ہے کہ وہ بھی اپنی پوسٹ بڑھائیں، دلچسپ چیزیں شیئر کریں اور دوسروں کے پروفائل سے رابطہ رکھیں۔سروے میں شامل 18 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اپنی تصویر فیس بک پر اسی وقت پوسٹ کرتے ہیں جب وہ اس سے مطمئن ہوتے ہیں اور صرف 7 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اپنی تصاویر کو فلٹر سے گزار کر اچھا بناکر ہی پوسٹ کرتے ہیں لیکن خطرناک امر یہ ہے کہ 10 فیصد لوگوں نے کہا کہ اگر ان کی تصاویر اور پوسٹس کو لائکس، ری پوسٹ، شیئرز اور ری ٹویٹس نہ ملے تو وہ مضطرب ہوجاتے ہیں اور 8 فیصد کا کہنا تھا کہ لائکس اور لوگوں سے توجہ نہ ملنے پر وہ پوسٹس کو ہٹادیتے ہیں جبکہ 18 سے 34 سال کے عمر تک کے لوگوں میں یہ رحجان دگنا دیکھا گیا۔مزید تحقیق سے ظاہر ہے کہ 34 لاکھ برطانوی باشندوں نے اعتراف کیا کہ وہ ایک گھنٹے میں 2 مرتبہ فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ 18 سے 34 سال کی عمر کے 8 فیصد افراد نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ انہیں نامناسب پوسٹ پر اعتراض اور فیس بک سے پابندی کا سامنا ہوا ہے جب کہ 23 فیصد افراد نے فیس بک پر لوگوں سے جرح اور بحث کی ہے۔ بالغ افراد کی نصف تعداد نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ اپنے پرانے دوستوں کی تلاش کے لیے فیس بک پر بھٹکتے رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…