اتوار‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2025 

بار بار سر کنگھی کرنے والے ہوشیار، ماہرین نے خبر دار کر دیا

datetime 2  اگست‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (نیوزڈیسک) بالوں کی حفاظت کے مقبول ترین ٹوٹکوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دن میں کم از کم سو بار بالوں میں ہیئر برش پھیرا جائے تو بال نہیں گرتے ہیں بلکہ ان کے بڑھنے کی رفتار تیز ہوجاتی ہے، اسی مشورے کو سائنسی رنگ دینے کیلئے یہ اضافہ بھی کردیا جاتا ہے کہ سر نیچے کی جانب جھکائیں اور تمام بال اپنے سامنے گرا کے پھر ان میں کنگھی پھیریں تو بال گرنا بند اور بڑھنے کی رفتار تیز ہوجاتی ہے۔ آپ خواہ پہلے مشورے پر عمل کرتی ہیں یا سائنسی طریقے پر، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ بالوں کیلئے یہ عمل نقصان دہ ہوتا ہے اور اس سے بالوں کی بڑھوتری کے عمل پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
جرمن ڈرماٹالوجی لیب میں کی گئی اس تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں کی ساخت بالکل پودوں جیسی ہوتی ہے۔ جس طرح نازک کونپلوں کو بار بار ہاتھوں سے چھوا جائے تو یہ مرجھانے لگتی ہیں، اسی طرح بالوں کی بیرونی سطح پر موجود سیلز بھی بار بار چھوئے جانے کے عمل سے متاثر ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں کمزور بالوں کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ سر کی جلد میں اپنی جڑیں مناسب طرح پیوست نہیں کرپائے ہوتے ہیں۔ایسے میں جب بالوں پر کنگھی کی صورت میں بار بار دباو¿ پڑتا ہے تو یہ جڑ سے باہر آجاتے ہیں۔ اس عمل کا مشاہدہ خود بھی کیا جاسکتا ہے۔ کنگھی میں پھنسے بالوں کے سروں کو غور سے دیکھیں تو ان کے کناروں پر حفاظتی تہہ موجود ہوتی ہے جو کہ بالوں کو سر کی جلد میں پیوست رکھتی ہے تاہم کنگھی کے دباو¿ کی وجہ سے یہ بھی باہر آجاتی ہے۔ اس تحقیقی مشاہدے کا اہتمام کرنے والے جلدی امراض کے ماہر پروفیسر شوارٹز روزمیرو تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ بالوں میں تیز رفتاری سے جب کنگھی پھیری جاتی ہے تو یہ سر کے اندر گرمی پیدا کرتی ہے، یہ گرمی مساموں کو پھیلا دیتی ہے جس کی وجہ سے بال جھڑنے کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔
پروفیسر شوارٹز نے بالون کی نشونما کیلئے سر کے مساج کے نظریئے کو بھی غلط ثابت کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بالوں کے ساتھ ویسے ہی سلوک کرتا ہے جیسا کہ تیز ہوا کھیتوں کے ساتھ کرتی ہے۔ بال سخت ہاتھوں سے کئے گئے مساج کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سختی سے کیا گیا مساج سر کو سکون تو پہنچاتا ہے تاہم اس کے بعد جب بال سلجھائے جاتے ہیں تو بڑی تعداد میں بال گرتے ہیں۔ پروفیسر شوارٹز اپنے تحقیقی مشاہدے کیلئے ٹی میزبانوں کی مثالیں دیتے ہیں جنہیں مسلسل ہیئر سٹائلنگ کی وجہ سے بال گرنے، کمزور اور بے جان بالوں کا مسئلہ بہت جلد درپیش ہوجاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پروفیسر غنی جاوید


’’اوئے انچارج صاحب اوپر دیکھو‘‘ آواز بھاری…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…