بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

بچپن کی کچھ بُری عادتیں جو بڑے ہو کر آپ کیلئے انتہائی مفید ثابت ہوتی ہیں، یونیورسٹی آف اوٹاگو کی دلچسپ تحقیق منظر عام پر

datetime 12  جولائی  2016 |

لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک)بچپن میں انگوٹھا چوسنے اور ناخن کترنے والے بچوں کی یہ بری عادت بلوغت میں ان کی لیے کچھ اس طرح سے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے کہ وہ الرجی سے دوررہتے ہیں۔ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ بچوں کی یہ ناپسندیدہ عادت بالغ ہونے پر انہیں الرجی سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ اپنے بچپن میں انگوٹھے چوسنے والے افراد کو جب الرجی کے لیے جلد کا ٹیسٹ کرایا گیا تو ان کی بڑی تعداد نے اس ٹیسٹ میں منفی (نگیٹو)ظاہر کیا۔نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف اوٹاگو کی جانب سے کی گئی اس تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ انگوٹھے چوسنے اور ناخن چبانے کا عمل بچوں کے قدرتی دفاعی نظام کو تبدیل کردیتا ہے۔ مطالعے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس عمل سے بچے اوائل عمر میں ہی مختلف جراثیم سے متاثر ہوکر ان امراض کے خلاف مزاحمت پیدا کرلیتے ہیں اور آگے چل کر ان میں الرجی سے متاثر ہونے کے خطرات کم ہوجاتے ہیں۔اس کے لیے ماہرین نے 1037افراد کا ان کی پیدائش سے لے کر 40سال کی عمر تک کا ڈیٹا حاصل کیا اور والدین سے بچوں کی عادات کے بارے میں پوچھا کہ آیا 5، 7، 9یا 11برس کی عمر میں وہ انگوٹھے چوستے اور ناخن چباتے تھے یا نہیں۔ اس کے بعد 13اور 32سال کی عمر میں ان میں الرجی کے ٹیسٹ کیے گئے جس میں کم ازکم ایک الرجی کے بارے میں جلد کی حساسیت نوٹ کی جاتی ہے۔تحقیق کے مطابق انگوٹے چوسنے اور ناخن چبانے والے افراد کی 38 فیصد تعداد جب کہ یہ عمل نہ کرنے والے افراد کی 49 فیصد تعداد میں الرجی کا ٹیسٹ مثبت آیا جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ کم ازکم ایک الرجی سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بچے اگر جراثیم کا سامنا کریں تو وہ آگے چل کر مختلف امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…