اتوار‬‮ ، 19 جولائی‬‮ 2026 

موت کی پیشگوئی کرنے والا کمپیوٹر

datetime 6  جولائی  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )ڈاکٹر حضرات مہلک امراض میں مبتلا مریضوں کے لواحقین کو یہ بتادیتے ہیں کہ ان کا عزیز زیادہ سے زیادہ اتنے عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ کئی مریض ڈاکٹروں کی پیش گوئی سے کئی گنا زیادہ عرصے تک جی لیتے ہیں۔ مگر اب ڈاکٹروں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مریض کی موت کی درست پیش گوئی کرسکیں گے، کیوں کہ ایسا س±پرکمپیوٹر تیار کرلیا گیا ہے جو یہ تعین کرسکتا ہے کہ مریض کی سانس کی ڈور کب ٹوٹے گی۔مذکورہ سپرکمپیوٹر امریکی ریاست بوسٹن میں قائم بیتھ اسرائیل ڈیکونیس میڈیکل سینٹر میں نصب کیا گیا ہے۔ اس کمپیوٹر میں ڈھائی لاکھ مریضوں کا ڈیٹا موجود ہے جو پچھلے تیس سال کے دوران اس اسپتال میں زیرعلاج رہے۔ کسی مریض سے متعلق تازہ ترین طبی معلومات کا ذخیرہ شدہ ڈیٹا سے موازنہ کرنے کے بعد سپرکمپیوٹر اس کی موت کی پیش گوئی کرتا ہے۔ اس پروجیکٹ سے وابستہ ڈاکٹر اسٹیو ہونگ کے مطابق کمپیوٹر کی پیش گوئی 96 فی صد تک درست ثابت ہورہی ہے۔ سپرکمپیوٹر نے کئی مریضوں کے متعلق ’ کہا ‘ تھا کہ 30 یوم کے اندر ان کی موت واقع ہوجائے گی۔ ایک کے علاوہ تمام مریض ایک ماہ کے اندر انتقال کرگئے۔ڈاکٹر اسٹیو کا کہنا ہے کہ سپرکمپیوٹر میں ڈیٹا حاصل کرنے، محفوظ کرنے اور نئے حاصل شدہ ڈیٹا کا ذخیرہ شدہ مواد سے تقابل کرنے کی زبردست صلاحیت ہے۔ یہ مشین ہر تین منٹ کے بعد مریض کے خون میں آکسیجن کی سطح سے لے کر بلڈ پریشر تک مختلف اکٹھا کرتی ہے، اور سیکنڈوں میں ان معلومات کا پرانے ڈیٹا سے موازنہ کرکے نتائج ظاہر کردیتی ہے۔
سپرکمپیوٹر مریض کی حالت سے لمحہ بہ لمحہ ڈاکٹرز کو خبردار کرتا ہے، اور وہ ان معلومات کے مطابق مریض کا علاج کرتے ہیں۔ ڈاکٹر اسٹیو کے مطابق کمپیوٹر کے ذریعے وہ کسی مریض کی حالت کا موازنہ، ماضی میں اسی مرض میں مبتلا رہنے والے کسی مریض کے ڈیٹا سے کرسکتے ہیں۔ یہ تقابل ان پر واضح کردیتا ہے کہ مریض کی حالت کس حد تک خراب ہے اور یہ مزید کتنا عرصہ زندہ رہ سکتا ہے۔ فی الوقت سپرکمپیوٹر کا استعمال صرف خطرناک امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)


یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…