اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

آپ کے باپ داد اآپ سے زیادہ صحت مند کیوں تھے؟7حقائق

datetime 1  جولائی  2016 |

اس بات میں تو کوئی شبہ نہیں ہے کہ آج کے دور میں روزمرہ کی زندگی میں جن عادات اور غذائی نظام کو اپنائے ہوئے ہیں وہ صدیوں تک ہمارے آباؤاجداد کی اختیار کردہ عادات اور غذائی نظام سے قدرے مختلف ہیں۔
ہم دن بھر میں تین بڑے کھانوں پر انحصار کرتے ہیں اور ان کھانوں کے درمیان بھوک محسوس ہونے پر ہلکے پھلکے ’اسنیکس‘کا سہارا لیتے ہیں۔ جب بیمار پڑتے ہیں تو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تاکہ اس سے وافر دوائیں لے کر جلد اپنی نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئیں۔
اس کے علاوہ ہم اپنے اکثر کام کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر کرتے ہیں بلکہ ہم تو کمپیوٹر کے ذریعے خریداری بھی کر لیتے ہیں۔
اس کے برعکس اگر ہم اپنے آباؤاجداد اور سابقہ نسلوں کے طرز زندگی کا جائزہ لیں کہ وہ کس طرح سے اچھی صحت اور مستقل سرگرمیوں سے لطف اندوز ہوتے تھے تو ہو سکتا ہے کہ ہم خود کو بدلنے کے بارے میں سوچیں اور اس خوبصورت وقت کی طرف لوٹنے کی فکر کریں۔
ہمارے آباؤ اجداد اتنی مقدار میں خوراک نہیں کھایا کرتے تھے جتنی آج ہم کھاتے ہیں۔ وہ لوگ آج کے الیکٹرانک دور میں کی جانے والی مشقت سے 10 گنا زیادہ محنت اور مشقت کیا کرتے تھے۔ وزن کی کمی کے لیے وہ کسی خاص غذائی پروگرام کو نہیں اپناتے تھے اور نہ وہ ورزش کے لیے کسی ’جِم‘ میں جاتے تھے۔
ماہرین نے اس طرز زندگی اور غذائی نظام کو جاننے کی کوشش کی ہے جس کے سبب پرانے وقتوں کے لوگ اپنے آج کے پوتے اور نواسوں سے بہتر صحت رکھتے تھے۔ ان وجوہ کا خلاصہ سات حقائق میں پیش کیا گیا ہے۔
1) بعض طبی تحقیق سے ثابت ہے کہ’جزوی فاقے‘ یا دن کے کسی ایک حصے میں کھانا کھانے سے بعض امراض مثلاً ذیابیطس، سرطان اور دل سے متعلق بعض مسائل کے خطرات کم کیے جاسکتے ہیں۔ ہمارے آباؤاجداد دن میں ایک بنیادی کھانا کھانے کو ترجیح دیا کرتے تھے جو غروب آفتاب سے قبل ہوتا تھا۔
2) ’جزوی فاقے‘ کے دوران مفید عناصر سے بھرپور غذا لینے پر توجہ مرکوز رکھنے سے دماغ کو سرگرم کیا جا سکتا ہے اور اس طرح اس کی کارکردگی میں اضافہ ممکن ہے، جس کے نتیجے میں ادراک کے حواس مضبوط ہوتے ہیں اور یادداشت بہتر ہو جاتی ہے۔
3) ہمارے آباؤاجداد غروب آفتاب سے قبل بنیادی کھانا کھا کر جلد سو جایا کرتے تھے۔ اس وجہ سے انہیں رات میں بھوک کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ یہ چیز ان کے لیے پرسکون اور گہری نیند لینے میں بھی مددگار ہوتی تھی۔
4) ہمارے آباؤاجداد نے اپنے کھانوں میں زیادہ تر بغیر پکی خوراک بالخصوص سبزیوں اور پھلوں پر پر انحصار کرتے تھے اور یقیناً انہوں نے زیادہ پکے ہوئے کھانوں کی عادت نہیں ڈالی۔
5) صحت مند طرز زندگی اور مفید غذائی روٹین کے پیش نظر ہمارے آباؤاجداد کے چہروں پر بڑھاپے کی علامات دیر سے ظاہر ہوتی تھیں اور یہ لوگ میک اپ کی اشیاء کے بارے میں جانتے تک نہ تھے۔
6) چونکہ ہمارے آباؤاجداد نے کمپنیوں اور کارخانوں کے اندر دفتری کام نہیں کیے اس لیے وہ روزانہ کے کام میں دباؤ کا شکار بھی نہیں ہوئے۔ آج جب کہ ہم اپنے کاموں کو روک نہیں سکتے ایسے مِیں ہمیں حتی الامکان یومیہ زندگی کے دباؤ سے دور رہنے کی کوشش کرنا چاہیے کیوں کہ یہ تمام شعبوں میں ہم پر منفی طور اثر انداز ہوتا ہے۔
7) ہمارے آباؤاجداد اپنے امراض کا علاج ڈاکٹروں اور دواؤں کے بغیر قدرتی طریقے سے کرنے کے عادی تھے۔ تاہم آج ہم نے کسی بھی بیماری کے علاج یا محسوس کی جانے والی تھکن سے جان چھڑانے کے لیے دوا کی گولیاں کھانا اپنے لیے نہایت آسان کر لیا ہے۔
آپ کے باپ داداآپ سے بہتر صحت کیوں رکھتے تھے؟یقیناً سمجھ میں آگیا ہوگا۔



کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…