پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

فلٹریشن پلانٹس کاپانی پینے والے افرا دکے لئے ایسی خبرکہ آپ اپنی صحت کے بارے میں سوچنے پرمجبورہوجائیں گے

datetime 25  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) صاف پانی کی کمی کے شکار پاکستان میں چھوٹے پیمانے پر فلٹریشن پلانٹس کا کاروبار تیزی کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے جس کی وجہ محکمہ خوراک میں چیک اینڈ بیلنس کی کمی ہے۔پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی ایک حالیہ تحقیق سے انکشاف کیاہے کہ شہری آلودہ پانی میں پرورش پانے والی بیماریوں کا شکاررہے ہیں اور پھر نام نہاد صاف پانی خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں لاہور میں پرائیویٹ فلٹریشن پلانٹس کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے جبکہ مختصر عرصے میں ہی یہ پلانٹس شہر بھر میں پھیل چکے ہیں اور ان کے صارفین کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان پلانٹس کے مالکان کا کہنا ہے کہ وہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی نسبت خالص اور صاف پانی انتہائی کم نرخوں پر فراہم کر رہے ہیں۔یہ پلانٹس پانی کی 19 لٹر کی بوتل کے 60 سے 90 روپے تک وصول کرتے ہیں اور اکثر فری ہوم ڈلیوری کی سہولت بھی دیتے ہیں، جبکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی 19 لٹر کی بوتل کی قیمت 190 روپے ہے۔اگر ہم مشاہدہ کریں تو چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والی یہ کمپنیاں بہت اچھا کاروبار کر رہی ہیں۔ پاکستان کے شہری علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے صاف پانی کی دستیابی تیزی سے ایک حقیقی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی ایک حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا کہ لاہور کا تمام پانی آلودہ ہو چکا ہے اور اس میں آرسینک کی مقدار عالمی ادارہ صحت کی جانب سے مقرر کردہ مقدار سے دوگنا ہے۔ یہ رپورٹ شہر کے مختلف حصوں سے پانی کے چار نمونوں کے لیبارٹری تجزیے پر مشتمل ہے۔پانی کے نمونوں میں آرسینک کی مقدار 20 پوائنٹس سے بھی زیادہ ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا معیار 10 پوائنٹس سے کم ہے۔پانی کے دو نمونوں کے تجزیے سے پتا چلا کہ ان میں موجود انسانی فضلے کی شرح بھی خطرناک حد تک ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…