ہفتہ‬‮ ، 13 جون‬‮ 2026 

اگر آپ جلدی بوڑھا ہونے سے بچناچاہتے ہیں تو یہ غذا استعمال کریں

datetime 14  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)ماہرین طب کا کہنا ہے کہ بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر کے کینسر کو شکست دی جا سکتی ہے۔ امراض قلب کے بعد سب سے زیادہ اموات سرطان کے سبب ہوتی ہیں تاہم بہتر طرز زندگی اختیار کرنے سے کینسر کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ غیر متوازن خوراک کو انسانی صحت میں بے شمار خرابیوں کا سبب قرار دینے کے علاوہ اِسے عالمی سطح پر ہیلتھ سیکٹر پر ایک بڑا بوجھ بھی قرار دیا گیا ہے۔ اِس ریسرچ کو ”فیوچر آف ف±وڈ“ کا نام دیا گیا ہے اور یہ آکسفورڈ مارٹن پروگرام کے تحت مکمل کی گئی۔ اس ریسرچ کے بارے میں یہ رپورٹ مارکو اسپرنگ مان نے مرتب کی ہے۔ اسپرنگ مان کے مطابق کرہ ارض پر خوراک تیار کرنے کا نظام ماحول کو نقصان دینے والی سبز مکانی گیسوں کے کل حجم کا ایک چوتھائی پیدا کرتی ہیں۔
مارکو اسپرنگ مان کا کہنا ہے کہ جو انسانی خوراک کھائی جاتی ہے وہی عمومی صحت اور گلوبل زمینی ماحول کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی نے استعمال میں لائی گئی خوراک کے چار ماڈل بنائے ہیں۔ پہلے ماڈل میں خوراک کھانے والے وہ شامل ہیں جو خوراک کے بنیادی رہنما اصول استعمال کرتے ہوئے پھل اور سبزی کے ساتھ ساتھ ایک خاص مقدار میں سرخ گوشت کا استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے ماڈل میں وہ لوگ شامل ہیں جو بھرپور کیلوریز والی خوراک تو ضرور کھاتے ہیں لیکن شکر پر بھرپور کنٹرول کیے ہوئے ہیں۔ تیسرے میں وہ شامل ہیں جو کلی طور پر سبزی خور ہیں لیکن مچھلی اور انڈے کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ چوتھے ماڈل میں وہ شامل ہیں جو دودھ، دہی اور مکھن کے علاوہ انڈے اور ہر قسم کے گوشت مچھلی سمیت سے اجتناب کرتے ہیں۔ چو تھے ماڈل کو ویگان فوڈ کہا جاتا ہے۔
کم گوشت کھانے اور پھل و سبزیوں کے زیادہ استعمال سے قبل از موت سے بچا جا سکتا ہے
امریکن نیشنل اکیڈمی برائے سائنسز کی ریسرچ رپورٹ میں تلقین کی گئی ہے کہ خوراک کے لیے مقرر کیے گئے عالمی رہنما اصولوں پر اگر پوری طرح عمل ہو جائے تو سن 2050 تک 51 لاکھ انسان موت کے منہ میں قبل از وقت جانے سے بچ سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہر قسم کے گوشت سے اجتناب کرنے والے اور پھل سبزیاں استعمال کرنے والے 81 لاکھ انسان بھی زیادہ صحت مندانہ زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ ان ہدایات کی روشنی میں اگر 29 فیصد لوگ زندگی بسر کرنا شروع کر دیں تو سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں 63 فیصد اور ویگان خوراک مقبول ہونے پر 70 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ مختلف ملکوں کو 700 ارب سے ایک ہزار ارب ڈالر کی بچت یقینی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…