سڈنی(نیوز ڈیسک ) آسٹریلیا کے ماہرین نے ماحول کی آلودگی کی ایک وجہ پلاسٹک کے وہ ذرات بتائے ہیں جو کپڑے دھوتے وقت کپڑوں نے نکل کر سیویج وغیرہ میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ ذرات چھوٹے چھوٹے ایک ملی میٹر سے بھی کم چوڑے فائبرز ہیں جو اس وقت فضا میں پھیل چکے ہیں۔ گذشتہ سال یہ خیال کیا جاتا تھا کہ فضا میں موجود پلاسٹک کے ذرات زیادہ تر ماحول میں پلاسٹک ویسٹ (waste) کی موجودگی کی وجہ سے ہے جو درختوں میں جھولتے ہوئے پلاسٹک بیگز سے پھیلے ہیں مگر ماہرین کی تازہ رپورٹ کے مطابق یہ ذرات کپڑے دھوتے ہوئے کپڑوں سے نکل کر سیویج اور ڈرینج کے نظام کے ذریعے سمندروں اور دریاﺅں میں شامل ہو جاتے ہیں جہاں سے آبی بخارات کے ذرات میں شامل ہو کر فضا میں معلق ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی 1960 کی دہائی سے ساڑھے چار سو فیصد بڑھ گئی ہے جس سے سب سے زیادہ شہری علاقے متاثر ہوئے ہیں۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم
-
لوڈ شیڈنگ کب ختم ہوگی؟ وزیر توانائی نے بتا دیا
-
ایران کا شاہ رخ خان کے مشہور ڈائیلاگ کے ذریعے ٹرمپ کو دلچسپ جواب
-
اسلام آباد میں ٹرانسپورٹ اڈے بندکرنے کا حکم ، وجہ بھی سامنے آ گئی
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
اسلحہ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل حل کر دی گئی
-
18سے 23اپریل تک ممکنہ موسمی صورتحال کے حوالے سے الرٹ جاری
-
تعلیمی اداروں میں موسم گرما اور موسم سرما کی چھٹیوں میں کمی! طلبا کے لئے بڑی خبر آگئی
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری
-
اسلام آباد،دو گروپس میں مسلح تصادم، دو بھائی جاں بحق
-
پیٹرول کوٹہ ؛بڑی پیشرفت سامنے آگئی
-
اقرار الحسن نے اے آر وائی سے استعفیٰ دے دیا
-
گرمی کے بعدبارشوں کی پیشگوئی، مختلف اضلاع میں الرٹ جاری
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں آج بھی اضافہ ریکارڈ



















































