سڈنی(نیوز ڈیسک ) آسٹریلیا کے ماہرین نے ماحول کی آلودگی کی ایک وجہ پلاسٹک کے وہ ذرات بتائے ہیں جو کپڑے دھوتے وقت کپڑوں نے نکل کر سیویج وغیرہ میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ ذرات چھوٹے چھوٹے ایک ملی میٹر سے بھی کم چوڑے فائبرز ہیں جو اس وقت فضا میں پھیل چکے ہیں۔ گذشتہ سال یہ خیال کیا جاتا تھا کہ فضا میں موجود پلاسٹک کے ذرات زیادہ تر ماحول میں پلاسٹک ویسٹ (waste) کی موجودگی کی وجہ سے ہے جو درختوں میں جھولتے ہوئے پلاسٹک بیگز سے پھیلے ہیں مگر ماہرین کی تازہ رپورٹ کے مطابق یہ ذرات کپڑے دھوتے ہوئے کپڑوں سے نکل کر سیویج اور ڈرینج کے نظام کے ذریعے سمندروں اور دریاﺅں میں شامل ہو جاتے ہیں جہاں سے آبی بخارات کے ذرات میں شامل ہو کر فضا میں معلق ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی 1960 کی دہائی سے ساڑھے چار سو فیصد بڑھ گئی ہے جس سے سب سے زیادہ شہری علاقے متاثر ہوئے ہیں۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
محکمہ موسمیات نے پہلے روزے سے متعلق پیشگوئی کر دی
-
بابراعظم اور شاہین آفریدی کی چھٹی
-
اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کیسے معلوم کریں؟ پی ٹی اے نے طریقہ بتا دیا
-
سعودی عرب : وزٹ ویزے پر آنے والوں کیلئے بڑی خبر
-
لاہور میں رشتہ دکھانے کے بہانے 2 سگی بہنوں کو 3 ملزمان نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں
-
انجینئر محمد علی مرزا پر اکیڈمی میں حملہ
-
محکمہ موسمیات کی مغربی لہر کے زیر اثر گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
-
شاہد آفریدی اپنے داماد شاہین آفریدی پر شدید برہم
-
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈکپ کی تاریخ کا انوکھا ریکارڈ بنا ڈالا
-
لاہور میں خاتون کو ہراساں کرنے والے رکشہ ڈرائیورکے نیفے میں پستول چل گیا
-
ایپسٹین فائلز میں مذکور 300 شخصیات کی فہرست جاری
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا



















































