جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

برے رویئے معاشرے میں کسی وبا کی طرح پھیلتے ہیں؟

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کئی سائنسی مطالعات کے بعد ماہرین اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ کسی شخص کا تلخ اور برا رویہ بھی معاشرے میں کسی بیماری کی وبا کی طرح پھیلتا ہے اور پھر مزید لوگ اسے پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔یونیورسٹی آف فلوریڈا کے ماہرین کے مطابق منفی جذبات معاشرے میں منفی رویوں کی وجہ بنتے ہیں خواہ لوگ اس کا شکار ہوئے ہوں یا پھر ان کا سامنا کیا ہو، اس طرح دوسرے لوگوں کے دماغ میں تلخ رویہ جاگ اٹھتا ہے اور وہ اپنے ساتھیوں سے بھی ایسا برتاو¿ کرنے لگتے ہیں یہاں تک معاملہ دشمنی اور انتقام تک جا پہنچتا ہے۔ماہرین نفسیات کے مطابق اس سے قبل ہونے والی تحقیق میں انتہائی شدید اور تباہ کن منفی رویوں کا بھی مطالعہ کیا گیا تھا لیکن اب روزمرہ زندگی میں اپنے گھر، دفتر، ساتھیوں ، صارف اور مالکان سے آنے والی چھوٹی چھوٹی تلخ باتوں کے بھی اس سے تعلق کے ثبوت ملے ہیں۔ اس طرح کے رویوں کا سامنا کرنے والا شعوری طور پر برا برتاو¿ آگے بڑھاتا ہے۔فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہرین نے اس کے لیے بہت سے افراد پر کئی سماجی اور نفسیاتی ٹیسٹ کیے اور اس نتیجے پر پہنچے کہ جس طرح جراثیم والی چیزوں کو چھونے اور بیماریوں کے ماحول میں بیٹھنے سے امراض لاحق ہوتے ہیں اسی طرح انسانوں کا برا رویہ دوسروں پر اثر ڈال کر انہیں بھی تلخ مزاج کا بناتا ہے جو اپنے حلقے میں مزید شدید رویہ پیدا کرتے ہیں۔



کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…