منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

ایبولا پر عالمی ردعمل’انتہائی سست روی کا شکار‘ رہا

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )صحتِ عامہ کے عالمی ماہرین کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ بین الاقوامی توجہ کی کمی اور رہنمائی کی ناکامی کے سبب ایبولا کی حالیہ وبا میں لوگوں کو تکالیف سے گزرنا پڑا اور بے جا ان کی جانیں گئیں۔لندن سکول آف ہائیجین اور ٹراپیکل میڈیسن کی سربراہی میں تیار کی جانے والی رپورٹ میں اس طرح کی وبا سے مستقبل میں محفوظ رہنے کے لیے وسیع اصلاحات پر زور دیا گیا ہے۔سنہ 2013 میں پھیلنے والی اس وبا میں 11 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور اس کی زد میں آنے والے ممالک میں گنی، لائبیریا اور سیئرالیون شامل تھے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ممالک وبا کو پہچاننے، اسے رپورٹ کرنے اور اس کے متعلق اقدام لینے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے ’ایبولا عالمی بحران کی صورت اختیار کر گیا۔‘رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او پر سخت تنقید کی گئی ہے کہ اس نے ایبولا کو ’عالمی ہنگامی صورت حال‘ قرار دینے میں انتہائی سست روی کا مظاہرہ کیا۔اس وبا میں 11 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئےہارورڈ گلوبل ہیلتھ کے ڈائرکٹر اشیش کمار جھا نے کہا: ’ڈبلیو ایچ او میں لوگ ایبولا کی وبا سے واقف تھے کہ موسم بہار تک قابو سے باہر ہو جائے گا۔۔۔ تاہم اس نے اگست میں جاکر اسے ناگہانی صورت حال قرار دیا اور اس تاخیر کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑی۔‘رپورٹ میں ڈبلیو ایچ او کی قیادت اور جوابدہی کی کمی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ ’اس سے ڈبلیو ایچ او کے وقار اور ساکھ کو شدید دھچکا لگا ہے۔‘ماہرین نے مستقبل میں اس قسم کی وبا سے نمٹنے کے لیے دس تجاویز بھی دی ہیں۔ان میں غریب ممالک کے لیے امداد اور چھوت کی بیماری پر عالمی حکمت عملی کے علاوہ وبا کی بات بتانے میں تاخیر کرنے والے ممالک کو نادم اور شرمندہ کرنا، ڈبلیو ایچ او اس کے لیے مخصوص مراکز اور بجٹ، اور وبائی بیماریوں پر تحقیق اور ادویات و ویکسین تیار کرنے کے لیے عالمی فنڈ کا قیام شامل ہے۔اس رپورٹ کی تیاری میں دنیا بھر سے صحت کے شعبے کے 20 ماہرین شامل تھے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…