اسلام آباد(نیوزڈیسک) ماہرینِ نفسیات کے مطابق 7 معمولات سے آپ اپنا مزاج خوشگوار بناسکتے ہیں جس کے سائنسی ثبوت موجود ہیں۔ماہرینِ طب ونفسیات کے مطابق انسان کا اولین ہدف خوش رہنا اور خوشگوار زندگی گزارنا ہوتا ہے۔ اسی لیے موڈ کو بہتر بنانے کے لیے روزمرہ زندگی کے7 معمولات کو اپنا کر آپ خود کو خوش اور مسرور رکھ سکتے ہیں۔
گلاب کے پھول سونگھیں:
ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق گھروں میں خصوصاً گلاب کے پھول رکھنے سے ماحول بہتر ہوتا ہے۔ صرف ایک ہفتے تک گھروں میں تازہ گلاب رکھنے اور کام پر جانے سے قبل ان کی خوشبو سونگھنے سے مزاج پرخوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور دن بھر مزاج خوشگوار رہتا ہے۔
باہر سیروتفریح کریں:
سان فرانسسکو اسٹیٹ یونیورسٹی میں ایک مطالعے کے بعد کہا گیا ہے کہ چھٹی کے دن شاپنگ کرکے اتنی مسرت نہیں ملتی جتنی باہر جا کر ہوتی ہے۔ اس لیے وقت نکالیے اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ باہر جائیے جو فکروں سے دور رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
سرد کافی پیئیں:
بپلک لائبریری آف سائنس (پی ایل او ایس) ون کی جانب شائع تحقیق کے مطابق روزانہ سافٹ ڈرنک اور سوڈا پینے والے افراد میں ڈپریشن اور ذہنی تناو¿ کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے اس لیے اس کی جگہ ڈاکٹرز سرد (آئس) کافی استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات تحقیق سے ثابت ہوچکی ہے کہ سرد کافی پینے سے ڈپریشن کا خطرہ 10 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔
وٹامن ڈی سے ذہنی تناو¿ میں کمی:
3 برس قبل 12 ہزار افراد پر کیے گئے مطالعے سے یہ بات سامنے ا?ئی جن افراد میں وٹامن ڈی کی کمی ہوگی ان میں ڈپریشن کا خطرہ اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے بعد وٹامن ڈی کا ٹیسٹ کرائیں جس سے وٹامن ڈی کی کمی معلوم ہوجائے گی۔ مچھلی ، مشروم ، دلیے ، ڈیری مصنوعات اور انڈوں میں بھرپور وٹامن ڈی ہوتا ہے اور ضروری ہے کہ روزانہ 10 سے 20 منٹ دھوپ میں گزاریں کیونکہ سورج کی کرنوں سے جسم کو وٹامن ڈی تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ورزش اور چہل قدمی:
اگر آپ کی عمر 20 سے 40 سال کے درمیان ہے تو ہفتے میں 3 مرتبہ ورزش کرکے پسینہ بہائیں اور تیز قدموں سے چہل قدمی کریں۔ جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایسن ( جاما) کے مطابق ورزش سے ڈپریشن اور ذہنی تناو¿ میں 16 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے۔
فیس بک سے دور رہیں:
یونیورسٹی آف مشی گن کی جانب سے کیے گئے مطالعے کے مطابق سوشل میڈیا اور نیٹ ورکنگ کی مشہور ویب سائٹ ”فیس بک“ کا زیادہ استعمال لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے اور ان کی خوشی چھین سکتا ہے۔ فیس بک کی پوسٹنگز کئی طرح سے لوگوں کو متاثر کرکے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔
نماز اور مراقبہ:
نماز، عبادت اور مراقبے سے دل کو سکون ملتا ہے اور روحانی طور پر انسان مستحکم ہوتا ہے۔ نماز اور مراقبے سے نیند بہتر ہوتی ہے، ذہنی تناو¿ کم ہوتا ہے اور انسان تندرست رہتا ہے۔
سات ایسی عادات جو آپ کو روز مرہ زندگی میں خوش رکھ سکتی ہیں
18
نومبر 2015
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں