لندن (نیوز ڈیسک)اگر تو آپ ڈبل روٹی یا بریڈ کے پیس کوتل کر یا ٹوسٹ کرکے کھانے کے عادی ہیں تو جان لیں کہ اس کے نتیجے میں کینسر جیسا مرض آپ کو شکار بناسکتاہے ۔ یہ انتباہ برطانیہ میں ہونیوالی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے ۔ فوڈ اسٹینڈرڈ ایجنسی کی تحقیق میں بھے ہوئے آلوو ں ، چپس اور ٹوسٹ میں کینسر کے باعث بننے والے کیمیکل ارکیلامیڈی کی مقدار کاجائزہ لیاگیا۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ نتائج سے معلوم ہواہے کہ آلووں میں چپس کو ہلکی سنہری رنگت آنے تک ہی پکایا جانا چاہیے جبکہ ڈبل روٹی میں بھی ہلکے ترین رنگت کو قابل قبول سمجھا جاسکتاہے ۔ تحقیق میں دریافت کیاگیا ہے کہ ڈبل روٹی یا الووں میں خستہ پن جتنا زیادہ ہوگا اس میں کینسر کا باعث بننے والے کیمیکل کی مقدار بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی ۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگر آلووں کو زیادہ دیر تک بھونا جائے تواس میں کیمیکل کی مقدار فی کلوگرام 1052 مائیکرو گرام ہوجاتی ہے جو کہ عام مقدار سے 50 گنا زیادہ ہوتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ س کیمیکل کا استعمال زیادہ کرنے کے نتیجے میں کینسر جیسے جان لیوا مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتاہے ۔
بھرپور سینکے ہوئے توس ، خطرناک بیماری کا سبب
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)
-
پاکستان ایران سے ناراض ہو گیا ہےیہ ناراضگی اس خط سے شروع ہوئی جو دینے کیلئے۔۔۔جاوید چوہدری کا حیران...
-
کون سا پاکستانی شہری اب ملک میں داخل نہیں ہو سکے گا؟ ہوائی اڈوں کو ہدایات جاری
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان
-
سرکاری ملازمین کے لئے بڑی خوشخبری آگئی
-
لاہور میں فیکٹری مالک کو انسپکشن کیلئے آنے اسسٹنٹ کمشنر سے تعارف پوچھنا مہنگا پڑ گیا
-
سندھ ہائیکورٹ نے رجب بٹ کے خلاف توہین مذہب کیس کا فیصلہ سنا دیا
-
5 سالہ سروس مکمل کرنے والے ملازمین کے لئے اہم خبر آگئی
-
اداکارہ ہما سلیم کے معروف کرکٹر پر سنگین الزامات، قانونی کارروائی کا اعلان
-
سعودی عرب کا نیا “پیکیج ویزا” متعارف، پاکستان سمیت 7 ممالک کے شہری مستفید ہوں گے
-
سلطان محمود غزنوی نے سومنات کے بت مسمار کر کے “غلطی” کی ، افغان وزیر کا بیان، اسلامی...
-
فیصل آباد میں شوہر نے مبینہ طور پر قرض کی رقم کے بدلے اپنی بیوی کو دوست کے ہاتھوں فروخت کر دیا
-
عمرہ نظام میں بڑی اصلاحات، نئے رولز نافذ کر دیے گئے
-
نئی آٹو پالیسی موخر، حکومت کا موجودہ آٹو پالیسی میں ایک سال توسیع کا فیصلہ



















































