پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

پاوں میں مستقل درد رہنا ٹھیک نہیں!

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)آپ کے پاو¿ں گوشت، ہڈیوں اور جوڑوں کا ایک پیچیدہ جال ہیں۔ اکثر لوگوں کو پیروں میں مستقل درد رہنے کی شکایت ہوتی ہے۔ دراز عمر افراد تو اس تکلیف سے پریشان رہتے ہی ہیں مگر اب ان دنوں نوجوانوں میں بھی یہ درد پایا جانے لگا ہے۔ پاو¿ں جسم کا پورا وزن اٹھاتے ہیں۔ پاو¿ں میں درد سے مرادپاو¿ں کی انگلیوں میں بھی درد ہو سکتا ہے اور ایڑیوں اور ٹخنوں میں بھی۔ عام طور پر لوگ پاو¿ں کے درد وکو بلکل نظر انداز کردیتے ہیں۔ انہیں اس تکلیف کی سنجیدگی کا اندازہ نہیں ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کا درد آگے چل کے آہستہ آہستہ بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ پیر کے درد کے علاج کے لیے پہلے اس کی وجوہات پر غور کرنا ضروری ہے۔ یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ کو درد وہو کیوں رہا ہے۔
پیرو میں درد رہنے کی وجوہات:ضرورت سے زیادہ چلنا: یہ پیروں میں درد رہنے کی ایک اہم وجہ ہے۔ چہل قدمی یوں تو صحت کے لے بے حد اچھی ہوتی ہے اور صحت بنانے کے لیے اسے روزانہ کرنے کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے لیکن پیروں کو حد سے زیادہ حرکت میں رکھنا انہیں مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ وزن لے کر چلنے سے بھی پیروں میں د رد ہو سکتا ہے۔
پیر میں کوئی چوٹ لگ جانا :
بعض اوقات پاو¿ں پر کسی چیز سے ٹھوکر لگ جاتی ہے جسے ہم اس وقت تو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پھر بعد میں اس کی وجہ سے پورے پیر میں ہی درد ہونے لگتا ہے۔بھاگنا اور کودنا: بچوں کے پیروں میں درد کی یہ ایک بڑی وجہ ہوتی ہے۔ زیادہ زور سے کودنے سے پیروں پر زور پڑتاہے اور وہ دکھنے لگتے ہیں۔
اونچی ہیل پہننا: خواتین اکثر فیشن کے لیے ہائی ہیلز پہنتی ہیں۔ ایسے جوتوں کے مستقل استعمال سے ایڑیوں اور پیروں میں درد وہنے لگتاہے۔ اونچی ہیل پہننے سے پیر کے ٹشوز موٹے ہوجاتے ہیں۔اونچی ہیل سے پیر سن بھی رہنے لگتا ہے۔زیادہ دیر تک پیٹھے رہنا: اکثر لوگوں کو سوکر اٹھنے کے بعد پیروں میں درد محسوس ہوتا ہے یا زیادہ دیر بیٹھے رہنے کے بعد اٹھ کر پیر کے کسی حصے میں شدید درد اٹھتاہے۔
گٹھیا کا مرض: گٹھیا کے مرض میں مبتلا افراد کو پیروں میں درد رہنے کی شکایت رہتی ہے۔ گٹھیا کے باعث پیروں میں سوجن آجاتی ہے جو درد کی وجہ بنتی ہے۔بعض اوقات پیرکا کوئی ناخن اندر سے بڑھنے لگتا ہے جس سے پہلے انگلیوں میں پھر پورے پاو¿ں میں درد ہو جاتا ہے۔
درد سے نجات کے طریقے:
ویسے تو زیادہ درد ہونے کی صورت میں کسی اچھے ہڈیوں کے معالج کو دکھانا ہی بہتر ہے لیکن بعض اوقات ہلکی پھلکی ورزش اور احتیاطوں سے بھی اس درد پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔پاو¿ں کو اسٹریچ کریں: پاو¿ں کو 90 ڈگری تک کھینچیں۔ صبح روزانہ اگر یہ ورزش کی جائے تو پاو¿ں میں درد کم ہوجائے گا۔
آرام دہ جوتوں کا انتخاب: ایسے جوتے نہ پہنیں جس سے آپ کو پیروں میں بے چینی یا درد محسوس ہونے لگے۔ جوتا نہ زیادہ بڑا پہنیں نا چھوٹا۔ جوتاپیر میں بلکل فٹ آنا چاہیے۔ اگر پیروں میں درد رہتا ہو تو اندر کا سول زیادہ موٹا اور نرم استعمال کریں۔پیروں کی صفائی کا خیال رکھیں: باہر سے آکر پیروں کو ضرور اچھی طرح دھوئیں۔ پھر اس پر کوئی اچھی موائسچرائزنگ کریم لگائیں۔ ایڑیاں خاص طور سے خشک ہو کر پھٹنے لگتی ہیں۔ سردیوں میں رات کو سونے سے پہلے ایڑیوں پر پیٹرولیم جیل لگا کر موزے پہن لیں۔کسی بھی قسم کی تبدیلی کا خیال رکھیں: پیر وں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ہو تو اس کا دھیان رکھیں۔ پیروں یا پیر کے ناخنوں کا رنگ بدلنے لگے یا پیروں میں سوجن رہنے لگے تو ڈاکٹر سے پیروں ما معائنہ کرائیں۔ اس کے علاوہ سوجن کے لیے برف کی سکائی بھی کی جاسکتی ہے۔
موسم کی شدت سے بچائیں: زیادہ ٹھنڈ یا گرمی میں رہنے سے پیروں میں درد بیٹھ جاتاہے۔ زیادہ دیر ائیر کنڈیشن یا تیز دھوپ میں نہ رہیں۔
ان آسان طریقوں سے آپ پیروں کے درد سے چھٹکارا حاصل کرس کر سکتے ہیں۔ آپ کے پاو¿ں آپ کے جسم کا ایک اہم حصہ ہیں اس لیے انھیں بھی دیکھ بھال کی اتنی ہی ضرور ت ہے جتنی جسم کے باقی حصوں کو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…