پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

رنگ بدلنے والی پٹی اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کو کم کرسکتی ہے

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) برطانیہ کی باتھ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کے لیے رنگ بدلنے والی ایک بینڈج یعنی طبی پٹی کار آمد ہو سکتی ہے۔ یہ پٹی انفیکشن کا پتہ چلتے ہی اپنے رنگ بدلتی ہے اور یہ زخم پر بیکٹریا کے ذریعے زہریلے مواد خارج کرنے کے نتیجے میں چمکیلے رنگ بکھیرتی ہے۔ اس سے ڈاکٹر کو بیکٹریا کے انفیکشن کا آسانی سے پتا چل سکتا ہے اور اس کا جلد علاج ہو سکتا ہے۔ یہ بطور خاص بچوں کے جلنے کے زخم پر موثر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بچوں میں جلنے کے زخم میں انفیکشن جلدی ہوتی ہے کیونکہ بچوں کی قوت مدافعت کا نظام زیادہ طاقتور نہیں ہوتا۔ ان انفیکشن سے زخم کے بھرنے میں تاخیر ہو سکتی ہے جس سے انھیں ہسپتال میں زیادہ رہنا پڑ سکتا ہے اور بعض اوقات زخم کے نشان ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں۔ شدید صورت حال میں ان انفیکشن سے جان بھی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹروں کو بغیر عام پٹی ہٹائے آسانی سے اور جلدی انفیکشن کا پتہ نہیں چل پاتا ہے اور پٹی کا ہٹانا درد کا باعث اور مزید زخم کا باعث ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت حال سے ٹمٹنے کے لیے احتیاط کے طور پر انفیکشن کی تصدیق ہونے سے قبل ہی اینٹی بایوٹکس ادویات دے دی جاتی ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بغیر انفیکشن کے اینٹی بایوٹکس دینے سے بیکٹریا اینٹی بایوٹکس کے خلاف مدافعت پیدا کرسکتا ہے اور ایسے بیکٹریا صحت کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ اس ٹیم کو اس ریسرچ کے نتائج کو جانچنے کے لیے میڈیکل ریسرچ کونسل کی جانب سے 10 لاکھ پاو¿نڈ دیے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…