جمعہ‬‮ ، 17 جولائی‬‮ 2026 

ماحولیات کی تبدیلی کا نتیجہ بھگتنے کے لیے تیار رہیں

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )ایک معروف ماہر معاشیات نے متنبہ کیا ہے کہ انسان کو جلد ہی اپنے ہاتھوں کی جانے والی ماحولی تبدیلی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔پروفیسر رچرڈ ٹال نے پیش گوئی کی ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں 1.1 سینٹی گریڈ اضافے سے فائدے سے زیادہ نقصان ہے۔حدت ایک ڈگری کے اضافے کی حد عبور کر جائےگی تاہم ماحولیات کے بہت سے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ پروفیسر پول ماحولیات کے بارے میں تشکیک کا شکار بتاتے ہیں۔اس سے قبل انھوں نے فصل اور جنگلات کی فرٹیلازنگ کے لیے CO2 کے مثبت اثرات کی نشاندہی کی تھی۔ماحولیات یا آب و ہوا یا موسمیات کی مخالفت کرنے والے عام طور پر ان کے نظریات کا حوالہ دیتے ہیں۔اس سے قبل پروفیسر پول نے فصل اور جنگلات کی فرٹیلازنگ کے لیے CO2 کے مثبت اثرات کی نشاندہی کی تھیپروفیسر پول نے بی بی سی کے پروگرام بدلتی آب و ہوا میں بات کرتے ہوئے کہا: ’بہت سے لوگ شاید یہ کہیں گے کہ درج? حرارت میں خفیف اضافہ انسانوں کے لیے مجموعی طور پر مفید ہوگا لیکن اگر اسے ڈالر میں دیکھیں تو اس کا مجموعی اثر منفی آئے گا۔‘جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا انسان اس نکتے پر پہنچ گیا ہے جہاں سے اسے اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا تو انھوں نے کہا: ’جی ہاں۔ تعلیمی میدان میں کم از کم اس پر اتفاق رائے ہے۔‘

151114173808_chennai_marina_beach_pollution_640x360_bbc_nocredit

لیکن ماحولی تبدیلی کی مخالفت کرنے والوں کے لیے یہ متنازع ہے کیونکہ وہ اکثر پروفیسر ٹول کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ہمیں درجہ حرارت میں اضافے کے بارے میں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔اس کے برعکس ایک دوسرے سائنسدان میٹ رڈلی کہتے ہیں کہ درجہ حرارت میں دو ڈگری تک اضافے سے دنیا کو فائدہ پہنچتا رہے گا۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ انسانی محرکات ہیں
انھوں نے کہا: ’ہم ڈیڑھ ڈگری تک درجہ حرارت میں اضافہ دیکھیں گے۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ دو ڈگری اضافہ خطرناک ہو گا۔ یہ درست نہیں۔ کتابیں بتاتی ہیں کہ دو ڈگری اضافے پر ہمیں نقصان پہنچنا شروع ہو جائے گا لیکن اس سے قبل ہم فائدہ حاصل کرتے رہیں گے۔‘
سسکس یونیورسٹی کے رچرڈ ٹال کاکہنا ہے کہ دو ڈگری تک درجہ حرارت کے اضافے کی بات بے معنی ہے کیونکہ ان کے مطابق درجہ حرارت میں تین سے پانچ ڈگری تک اضافہ ہوگا کیونکہ ماحولیات پر پیرس میں ہونے والی کانفرنس میں درجہ حرارت کو دو سے نیچے رکھنے پر اتفاق نہیں ہو سکے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ چار ڈگری تک اضافہ زیادہ ہے لیکن یورپ اور ان تمام دوسرے امیر ممالک کے لیے قابل برداشت ہے جو نئے ماحول میں رہنے کا خرچ برداشت کر سکیں۔
انھوں نے کہا کہ ’تبدیلی ماحولیات سے لڑنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ معاشی ترقی کی رفتار کو تیز تر کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…