پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

ذیابیطس اور بلڈ پریشر سے نجات کا بہترین نسخہ

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )کیا آپ زندگی میں موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے امراض سے بچنا چاہتے ہیں؟ تو بس گاڑی کا استعمال چھوڑ کر بسوں پر سفر کریں اور گھر کے بنے کھانے کو ہی استعمال کریں۔یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔ہاورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق کسی پرہجوم بس میں کھانے کا ڈبہ پکڑ کر سفر کرنا دیکھنے میں چاہے جتنا بھی خراب لگے مگر یہ انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔درحقیقت فٹ اور صحت مند رہنے کا اصل راز ہی گاڑی کا استعمال چھوڑنے اور گھر کے بنے کھانوں کے استعمال میں چھپا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اپنے طرز زندگی میں ان دو معمولی تبدیلیوں سے آپ مجموعی صحت پر حیرت انگیز مثبت اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہفتہ بھر میں 11 بار گھر کا بنا کھانے سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ 13 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔
مزید پڑھئیے: ریحام نے طلاق کی وجہ کالا جادو قرار دے دیا
اسی طرح جو لوگ روزانہ اپنی گاڑی کی بجائے پبلک ٹرانسپوٹ سے سفر کرتے ہیں ان میں ذیابیطس کا امکان 34 فیصد، ہائی بلڈ پریشر کا 27 فیصد اور موٹاپے کا خطرہ 44 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔اسی حوالے سے کینیڈا میں ہونے والی ایک الگ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں وہ آسان سے دکانوں تک چہل قدمی کرکے جاسکیں، ان میں ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔دونوں تحقیق کا نچوڑ یہ ہے کہ پبلک ٹرانسپوٹ اور مختصر چہل قدمی کے متعدد طبی فوائد ہوتے ہیں جبکہ باہر کے چٹ پٹے کھانوں کی بجائے گھر کی تیار کردہ خوراک کا استعمال جسمانی وزن کو کم رکھنے اور بیماریوں سے بچنے کا آسان ترین طریقہ ہے۔ہاورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران گھر کے بنے کھانوں کے فوائد کا جائزہ ایک لاکھ سے زائد افراد میں لیا گیا جس کے بعد معلوم ہوا کہ جو لوگ باہر کی بجائے گھر کے کھانے استعمال کرتے ہین انہیں موٹاپے اور ذیابیطس سے کافی ھد تک تحفظ ملتا ہے۔یہ تحقیق امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے سائنٹیفک سیشن 2015 کے دوران پیش کی گئی۔

مزید پڑھئیے:ذولفقار مرزا کے ایان علی اور آصف زرداری کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…