پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

نئے خیبر پختونخوامیں صحت کا انقلاب، زبردست اقدام کااعلان،پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)نئے خیبر پختونخوامیں صحت کا انقلاب، زبردست اقدام کااعلان،پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے، خیبر پختونخوا کے سنیئر وزیر صحت شہرام خان تراکئی نے کہاہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے احکامات کی روشنی میں صوبے کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کو پوری کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات کئے جارہے ہیں اور اس سلسلے میں ایف سی پی ایس پاس نوجوانوں کوواک ان انٹرویو کے ذریعے بطور کنسلٹنٹس ڈاکٹر بھرتی کیا جارہا ہے ۔ نئے بھرتی ہونے والے ان کنسلٹنٹس ڈاکٹروں کو اُن کی مرضی کے ہسپتالوں میں تعینات کیا جائے گا اور اُنہیں پُر کشش تنخواہ اور مراعات دیے جائیں گے جس کے لئے اگلے چند دنوں کے اندر اخبارات میں اشتہارات دیے جائیں گے ۔وہ گزشتہ روز پشاور میں ڈاکٹروں کی تنظیم کے ایک وفد سے گفتگو کررہے تھے جس نے اُن کے دفتر میں اُن سے ملاقات کی اور صحت کے شعبے میں موجودہ صوبائی حکومت کے اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد اور اس سلسلے میں ڈاکٹر برادری کے کردار پر تبادلہ خیال کیا ۔ صوبائی وزیر نے وفد کو بتایا کہ تدریسی ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتالوں اور دیگر طبی مراکز میں تعینات ڈاکٹروں کو دوگنا اور تین گنا تنخواہیں اور مراعات دی جارہی ہیں جس کے لیے سمری وزیر اعلیٰ کو ارسال کردی گئی ہے ۔ اُنہوں نے بتایا کہ صوبے کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کے لئے ڈسٹرکٹ اسپیشیلسٹ کے علاوہ 900نرسز اور 500پیرا میڈکس اسٹاف بہت جلد بھرت کئے جائیں گے جس کے لئے صوبائی پبلک سروس کمیشن سے این او سی حاصل کر لی گئی ہے اوراگلے ایک دو دنوں میں ان آسامیوں کو بھی مشتہر کیا جائے گا۔شہرام تراکئی نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کسی فرد یا ڈاکٹر کے خلاف نہیں بلکہ اُس سوچ کے خلاف ہے جو تبدیلی کی راہ میں روڑے اٹکا ہے ہیںاور اُس نظام کا تسلسل چاہتے ہیں جس نے گذشتہ 65سالوں میں غریب عوام کو کوئی ریلیف نہیں پہنچایا۔ ڈاکٹرز حکومتی ٹیم کا حصہ ہیں اور لوگوں کو طبی خدمات کی فراہمی میں اُن وہ کردار ہے جو ایک عمارت میں ستون کا ہوتا ہے ، ڈاکٹروں کی غالب اکثریت موجودہ صوبائی حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کی حمایت کرتی ہے مگر چند مٹھی بھر عناصر ان اصلاحاتی اقدامات کی اس لئے مخالفت کررہے کیونکہ ان سے اُن کی ذاتی مفادات کو نقصان ہے ۔ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں ایک ایسا نظام لانا چاہتی ہے جسے مریضوں اور عوام کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کا بھی بھلا ہو۔ صوبائی وزیر نے ڈاکٹر برادری پر زور دیا کہ وہ صحت کے شعبے میں حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کو کامیاب بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کرے ۔ وفد کے اراکین نے صحت کے شعبے میں اُٹھائے جانے والے حکومتی اقدامات کو ڈاکٹر برادری، عوام اور حکومت سب کے مفاد میں قرار دیتے ہوئے ان کو کامیاب بنانے کے لئے اپنی ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…