اسلام آباد (نیوز ڈیسک )ارسطو نے دل کی حرکت کو زندگی سے تعبیر کیا ہے لیکن کیا دل جنس کی تفریق سے بالاتر ہے یا واقعی مرد دل کے معاملے میں زیادہ فراخ دل واقع ہوتا ہے؟اس مفروضے کی وضاحت ایک نئی تحقیق سے ملتی ہے جس میں سائنس دانوں نے بتایا ہے کہ مردوں اور عورتوں کے دل کی عمر میں فرق ہے۔ ایک سائنسی جریدے ‘جرنل ریڈیولوجی’ میں کہا گیا ہے کہ مرد اور عورت کا دل مختلف طرح سے بڑھتا ہے یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ عورت اور مرد کا دل مختلف طریقے سے عمر رسیدہ ہوتا ہے۔ 10 سالہ طویل مطالعے میں محققین نے لگ بھگ تین ہزار بالغان کی معلومات کا استعمال کیا ہے جن کی عمریں 45 سے 84برس کے درمیان تھیں اور مطالعے میں شمولیت کے وقت ان میں سے کوئی بھی دل کے مرض میں مبتلا نہیں تھا۔جریدہ سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق مطالعے میں سائنس دانوں نے دل کے ایک حصے بائیں وینٹریکل (بطین ) پر توجہ مرکوز رکھی ہے جو جسم میں دل سے آکسیجن والا صاف خون پمپ کرتا ہے تاہم محققین کو پتا چلا ہے کہ جب لوگوں کی عمریں زیادہ ہو جاتی ہیں تو بائیں وینٹریکل میں خون پمپ کرنے کی صلاحیت میں کمی آتی ہے لیکن یہ کمی ایک شخص کی جنس پر منحصر ہوتی ہے۔محققین کو ایسے سائنسی شواہدملے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ مردوں کے دل کے میں بائیں بطین کے ارد گرد دل کے خاص پٹھے عمر کےساتھ ساتھ بڑے اور سخت ہوتے ہیں تاہم عورتوں میں دل کے عضلات کا سائز برقرار رہتا ہے یا پھر سکڑ تا ہے۔محققین نے کہا کہ جنس کی بنیاد پر یہ اختلافات کیوں پائے جاتے ہیں مطالعہ میں یہ واضح نہیں ہوا ہے لیکن یہ دلچسپ تضادات اس بات کا تعین کرنے میں محققین کی مدد کر سکتے ہیں کہ کیا دل کی بیماری میں مبتلا مرد اور عورتوں کے لیے صنفی مخصوص علاج ضروری ہے۔جان ہاپکنز اسکول آف میڈیسن سے منسلک پروفیسر جوواو¿ لیما نے کہا کہ جنس سے متعلق یہ اختلافات بتاتے ہیں کہ عورتوں اور مردوں میں دل کی بیماری کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔تحقیق کاروں نے اپنے مشاہدے کے دوران دل کے بائیں بطین کی ساخت اور افعال کا جائزہ لینے کے لیے ایم آر آئی اسکین کا استعمال کیا جبکہ دوسرے محققین نے دل کی جانچ پڑتال کے لیے الٹرا ساونڈ اسکین استعمال کیا تاہم نئی تحقیق کے مطابق آیم آر آئی اسکین کے نتائج مفصل تھے۔اسکین کی مدد سے ڈاکٹروں کی ٹیم نے شرکاءکے بائیں بطین کے حجم کا تعین کیا اور وزن کا شمار کیا۔مطالعے کی مدت کے دوران مردوں میں بائیں بطین کے پٹھوں میں 0.3 اونس یا 8 گرام اوسط اضافہ ہوا اس کے برعکس عورتوں کے دل کے عضلات میں 0.06 یا 16 گرام کا نقصان ہوا۔اس کے علاوہ دل کے خون بھرنے کی صلاحیت ( دل کی دھڑکن کے درمیان بائیں بطین میں خون بھرنے کی مقدار )دونوں جنسوں میں گری تھی تاہم عورتوں میں یہ واضح تھی یعنی عورتوں میں 0.4 سیال اونس یا 13 ملی لیٹر کمی واقع ہوئی تھی اس کے مقابلے میں مردوں میں یہ کمی 0.3 سیال اونس یا 10 ملی لیٹر تھی۔ڈاکٹر لیما نے حتمی نتائج میں لکھا کہ یہ اختلافات جسم کے وزن ،بلڈ پریشر ،کولیسٹرول کی سطح ،ورزش کی سطح ،سگریٹ نوشی جیسے عوامل کو شامل کرنے کے بعد بھی واضح تھے۔
عورت اور مرد کا دل مختلف طریقے سے عمر رسیدہ ہوتا ہے،دلچسپ تحقیق
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)
-
بھارت اور ویسٹ انڈیز کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں چھکوں کی برسات، نیا عالمی ریکارڈ قائم
-
حنا جاوید قتل کیس: مقتولہ سے زیادتی بھی کی گئی، ملازم سے ڈی این اے میچ کرگیا
-
گرج چمک کے ساتھ بارش،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کردی
-
رات کو نوڈلز کھائے، صبح پورا خاندان مردہ پایا گیا
-
شریاس ائیر نے اپنی ٹیم کی اننگ تین گیندیں قبل ختم کر کے سب کو حیران کر دیا
-
سعودی عرب میں نئے قوانین کا اعلان، خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کا فیصلہ
-
پاکستان میں سریے اور سیمنٹ کی قیمتیں، آج کے تازہ نرخ
-
زلزلے کے جھٹکے،لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے
-
توشہ خانہ کا جولائی تا ستمبر 2026 کا ریکارڈ جاری، اہم نام سامنے آگئے
-
گورنر راج میں حصہ اور گورنرشپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں، محسن نقوی
-
جڑواں شہروں میں چلنے والی میٹرو بس سروس کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان
-
گلشن حدید میں ایک گھر سے 5 لاشیں ملنے کا کیس، میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی
-
سلمان خان کے بیڈروم میں نادیدہ وجود، پراسرار واقعات کا انکشاف



















































