جمعہ‬‮ ، 17 جولائی‬‮ 2026 

عورت اور مرد کا دل مختلف طریقے سے عمر رسیدہ ہوتا ہے،دلچسپ تحقیق

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2015 |
Man and woman holding red heart in hands on blue background

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )ارسطو نے دل کی حرکت کو زندگی سے تعبیر کیا ہے لیکن کیا دل جنس کی تفریق سے بالاتر ہے یا واقعی مرد دل کے معاملے میں زیادہ فراخ دل واقع ہوتا ہے؟اس مفروضے کی وضاحت ایک نئی تحقیق سے ملتی ہے جس میں سائنس دانوں نے بتایا ہے کہ مردوں اور عورتوں کے دل کی عمر میں فرق ہے۔ ایک سائنسی جریدے ‘جرنل ریڈیولوجی’ میں کہا گیا ہے کہ مرد اور عورت کا دل مختلف طرح سے بڑھتا ہے یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ عورت اور مرد کا دل مختلف طریقے سے عمر رسیدہ ہوتا ہے۔ 10 سالہ طویل مطالعے میں محققین نے لگ بھگ تین ہزار بالغان کی معلومات کا استعمال کیا ہے جن کی عمریں 45 سے 84برس کے درمیان تھیں اور مطالعے میں شمولیت کے وقت ان میں سے کوئی بھی دل کے مرض میں مبتلا نہیں تھا۔جریدہ سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق مطالعے میں سائنس دانوں نے دل کے ایک حصے بائیں وینٹریکل (بطین ) پر توجہ مرکوز رکھی ہے جو جسم میں دل سے آکسیجن والا صاف خون پمپ کرتا ہے تاہم محققین کو پتا چلا ہے کہ جب لوگوں کی عمریں زیادہ ہو جاتی ہیں تو بائیں وینٹریکل میں خون پمپ کرنے کی صلاحیت میں کمی آتی ہے لیکن یہ کمی ایک شخص کی جنس پر منحصر ہوتی ہے۔محققین کو ایسے سائنسی شواہدملے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ مردوں کے دل کے میں بائیں بطین کے ارد گرد دل کے خاص پٹھے عمر کےساتھ ساتھ بڑے اور سخت ہوتے ہیں تاہم عورتوں میں دل کے عضلات کا سائز برقرار رہتا ہے یا پھر سکڑ تا ہے۔محققین نے کہا کہ جنس کی بنیاد پر یہ اختلافات کیوں پائے جاتے ہیں مطالعہ میں یہ واضح نہیں ہوا ہے لیکن یہ دلچسپ تضادات اس بات کا تعین کرنے میں محققین کی مدد کر سکتے ہیں کہ کیا دل کی بیماری میں مبتلا مرد اور عورتوں کے لیے صنفی مخصوص علاج ضروری ہے۔جان ہاپکنز اسکول آف میڈیسن سے منسلک پروفیسر جوواو¿ لیما نے کہا کہ جنس سے متعلق یہ اختلافات بتاتے ہیں کہ عورتوں اور مردوں میں دل کی بیماری کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔تحقیق کاروں نے اپنے مشاہدے کے دوران دل کے بائیں بطین کی ساخت اور افعال کا جائزہ لینے کے لیے ایم آر آئی اسکین کا استعمال کیا جبکہ دوسرے محققین نے دل کی جانچ پڑتال کے لیے الٹرا ساونڈ اسکین استعمال کیا تاہم نئی تحقیق کے مطابق آیم آر آئی اسکین کے نتائج مفصل تھے۔اسکین کی مدد سے ڈاکٹروں کی ٹیم نے شرکاءکے بائیں بطین کے حجم کا تعین کیا اور وزن کا شمار کیا۔مطالعے کی مدت کے دوران مردوں میں بائیں بطین کے پٹھوں میں 0.3 اونس یا 8 گرام اوسط اضافہ ہوا اس کے برعکس عورتوں کے دل کے عضلات میں 0.06 یا 16 گرام کا نقصان ہوا۔اس کے علاوہ دل کے خون بھرنے کی صلاحیت ( دل کی دھڑکن کے درمیان بائیں بطین میں خون بھرنے کی مقدار )دونوں جنسوں میں گری تھی تاہم عورتوں میں یہ واضح تھی یعنی عورتوں میں 0.4 سیال اونس یا 13 ملی لیٹر کمی واقع ہوئی تھی اس کے مقابلے میں مردوں میں یہ کمی 0.3 سیال اونس یا 10 ملی لیٹر تھی۔ڈاکٹر لیما نے حتمی نتائج میں لکھا کہ یہ اختلافات جسم کے وزن ،بلڈ پریشر ،کولیسٹرول کی سطح ،ورزش کی سطح ،سگریٹ نوشی جیسے عوامل کو شامل کرنے کے بعد بھی واضح تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…