پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

انٹر نیٹ ڈاکٹر کی جگہ ذاتی ڈاکٹر سے ملیں

datetime 31  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بڑے کہتے تھے نیم حکیم خطرہ جان اب یہ محاورہ حکیموں سے ہٹ کر انٹر نیٹ تک آگیا ہے ۔ جسے دیکھئے اپنی بیماری کو گوگل کرتا ہے اور جو کچھ ملتا ہے اس پر عمل درآمد شروع کردیتاہے ۔ انٹرنیٹ سے اپنا علاج کرنا خطرناک ہوسکتاہے ۔ اس سے آپ کو لگے گا جیسے ہر نئی بیماری نے آپ میں بیسرا کرلیاہے ۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ انٹر نیٹ پر کسی بھی بیماری کے علاج کو تلاش کرتے ہوئے پہلے دس نتائج میں سے اکثر غیر متعلقہ ہوتے ہیں ۔ یہ صورتحال اس وقت مزید خطرناک ہوجاتی ہے جب جواب میں صارفین کو متعلقہ سرچ میں مزید نئی نئی علامتوں سے روشناس کرایا جاتاہے ۔ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ سے اپنا علاج کرنے کی صورت میں صارفین کے خوف میں اضافہ ہی ہوتاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…