پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

ہیپاٹائٹس کی دوائیں موت کا باعث بھی بن سکتی ہیں

datetime 25  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلا م آباد(نیوز ڈیسک ) امریکی انتظامیہ برائے خوراک و ادویات ”ایف ڈی اے“ نے کہا ہے کہ پیپاٹائٹس کے مرض کے خلاف استعمال کی جانے والی دو ادویات ایسی ہیں، جو جگر کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں اور کچھ مواقع پر یہ مریضوں کی اموات کی وجہ بھی بنی ہیں۔ اس امریکی وفاقی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ان ادویات کے استعمال میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ اس امریکی ایجنسی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ”ویکیرا پاک“ اور ”ٹیکنیوی“ نامی ادویات کے استعمال کے حوالے سے دیکھا گیا ہے کہ یہ جگر کے کام کرنا چھوڑ دینے یا اس جیسی کیفیات کا باعث بنتی ہیں، جس کی وجہ سے نتیجہ یا تو موت کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے، یا نوبت جگر کی پیوندکاری تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان ادویات کا سب سے زیادہ برا اثر ان افراد پر دیکھا گیا، جنہیں ہیپاٹائٹس سی سے قبل جگر کی خرابی کا مسئلہ درپیش رہا ہو۔ یہ ادویات شکاگو میں قائم ایک دواساز ادارہ ”ایب وائی“ تیار کرتا ہے۔ یہ ادویات تیار کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس وفاقی ادارے کی ہدایات کے مطابق ان دوا?ں کے ڈبوں پر احتیاطی تدابیر درج کر رہی ہے اور اس بات پر بھی زور دیا جائے گا کہ پہلے سے جگر کی خرابی کے شکار مریض اس دوا کا استعمال ہرگز نہ کریں۔ تاہم اس ادارے نے اصرار کیا ہے کہ ان ادویات اور جگر کو پہنچنے والے نقصان کے درمیان باقاعدہ تعلق ابھی واضح نہیں ہوا۔ امریکا کی فیڈرل ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے مطابق ان دوا?ں کے استعمال کی اجازت دیئے جانے کے بعد عالمی سطح پر ایسے کم از کم 26 کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں ان ادویات کے استعمال اور جگر کو پہنچنے والے نقصان کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ ”ویکیرا پاک“ کی فروخت کی اجازت دسمبر 2014 میں جب کہ ”ٹیکنیوی“ کی فروخت کی اجازت جولائی میں دی گئی تھی۔ ایف ڈی اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان ادویات کی وجہ سے جگر کو پہنچنے والا زیادہ نقصان صرف اسی صورت میں دیکھا گیا ہے کہ اگر جگر کو لاحق بیماری بہت بڑھ چکی ہو۔ اس امریکی ادارے نے مریضوں سے یہ بھی کہا ہے کہ جو مریض یہ دوائیں لے رہے ہیں، وہ اپنے معالج کے مشورے کے بغیر ان کا استعمال ہرگز ترک نہ کریں، کیوں کہ ایسا کرنے سے ان کا ہیپاٹائٹس کا مرض دیگر ادویات کے خلاف مزاحمت کا حامل ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…