منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

ہیپاٹائٹس کی ادویات ہی جگر کو نقصان پہنچانے لگیں

datetime 25  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلا م آباد(نیوز ڈیسک ) امریکی انتظامیہ برائے خوراک و ادویات ”ایف ڈی اے“ نے کہا ہے کہ پیپاٹائٹس کے مرض کے خلاف استعمال کی جانے والی دو ادویات ایسی ہیں، جو جگر کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں اور کچھ مواقع پر یہ مریضوں کی اموات کی وجہ بھی بنی ہیں۔ اس امریکی وفاقی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ان ادویات کے استعمال میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ اس امریکی ایجنسی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ”ویکیرا پاک“ اور ”ٹیکنیوی“ نامی ادویات کے استعمال کے حوالے سے دیکھا گیا ہے کہ یہ جگر کے کام کرنا چھوڑ دینے یا اس جیسی کیفیات کا باعث بنتی ہیں، جس کی وجہ سے نتیجہ یا تو موت کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے، یا نوبت جگر کی پیوندکاری تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان ادویات کا سب سے زیادہ برا اثر ان افراد پر دیکھا گیا، جنہیں ہیپاٹائٹس سی سے قبل جگر کی خرابی کا مسئلہ درپیش رہا ہو۔ یہ ادویات شکاگو میں قائم ایک دواساز ادارہ ”ایب وائی“ تیار کرتا ہے۔ یہ ادویات تیار کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس وفاقی ادارے کی ہدایات کے مطابق ان دوا?ں کے ڈبوں پر احتیاطی تدابیر درج کر رہی ہے اور اس بات پر بھی زور دیا جائے گا کہ پہلے سے جگر کی خرابی کے شکار مریض اس دوا کا استعمال ہرگز نہ کریں۔ تاہم اس ادارے نے اصرار کیا ہے کہ ان ادویات اور جگر کو پہنچنے والے نقصان کے درمیان باقاعدہ تعلق ابھی واضح نہیں ہوا۔ امریکا کی فیڈرل ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے مطابق ان دوا?ں کے استعمال کی اجازت دیئے جانے کے بعد عالمی سطح پر ایسے کم از کم 26 کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں ان ادویات کے استعمال اور جگر کو پہنچنے والے نقصان کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ ”ویکیرا پاک“ کی فروخت کی اجازت دسمبر 2014 میں جب کہ ”ٹیکنیوی“ کی فروخت کی اجازت جولائی میں دی گئی تھی۔ ایف ڈی اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان ادویات کی وجہ سے جگر کو پہنچنے والا زیادہ نقصان صرف اسی صورت میں دیکھا گیا ہے کہ اگر جگر کو لاحق بیماری بہت بڑھ چکی ہو۔ اس امریکی ادارے نے مریضوں سے یہ بھی کہا ہے کہ جو مریض یہ دوائیں لے رہے ہیں، وہ اپنے معالج کے مشورے کے بغیر ان کا استعمال ہرگز ترک نہ کریں، کیوں کہ ایسا کرنے سے ان کا ہیپاٹائٹس کا مرض دیگر ادویات کے خلاف مزاحمت کا حامل ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…