منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں امراض قلب کے مریض ادویات سے محروم ہیں، رپورٹ

datetime 23  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) دنیا بھر میں امراضِ قلب میں مبتلا افراد کی اکثریت دل کی ایسی عام دستیاب دواو¿ں سے بھی محروم ہے جو بظاہر ان کی دسترس میں ہوتی ہیں۔
معروف طبی جریدے ”لینسٹ“ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت دیگر غریب اور کم ا?مدنی والے ممالک میں یہ دوائیں یا تو عام دستیاب نہیں یا پھر بہت مہنگی ہیں جب کہ امراضِ قلب یا فالج کے شکار نصف مریضوں تک ان دواو¿ں کی رسائی ہی نہیں ہے۔ جریدے کی رپورٹ کے مطابق جب تک ان دواو¿ں کو عام یا سستا نہیں کیا جاتا اس وقت تک یہ بیماروں کی پہنچ سے دور رہیں گی۔
دل کی دواو¿ں کی 4 بنیادی اقسام ہیں جن میں ایسپرین، بیٹا بلاکرز، اسٹاٹنز اور اے سی ای انہبیٹرز شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) کے مطابق 2025 تک یہ دوائیں 80 فیصد تک مریضوں کی رسائی میں ہونی چاہئیں۔ رپورٹ میں غریب اور متوسط ا?مدنی والے ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان دواو¿ں کو پھیلانے اور ان کی قیمتیں کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔
رپورٹ کی تیاری میں 10 سال تک 18 ممالک کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں پاکستان سمیت امریکا، کینیڈا، سویڈن، امارات، کینیڈا، ملائیشیا، چلی، ترکی، جنوبی افریقا، ارجنٹینا، برازیل، کولمبیا، ایران، چین، مقبوضہ فلسطین ، بنگلا دیش اور بھارت وغیرہ شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن ممالک میں دواو¿ں کی ماہانہ قیمت ا?مدنی کے 20 فیصد تک ہو تو وہ خریداری سے باہر ہوجاتی ہے اسی لیے ان دواو¿ں کو مزید سستا کرنے کی ضرورت ہے۔رپورٹ کے مطابق متوسط آمدنی والے ممالک میں 62 فیصد شہریوں اور 37 فیصد دیہاتیوں کو یہ دوائیں دستیاب ہیں جب کہ غریب ممالک میں 25 فیصد شہری اور 3 فیصد دیہی آبادیوں کو ان اہم دواو¿ں کی سہولت موجود ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…